زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 102 of 348

زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 102

زریں ہدایات (برائے طلباء ) 102 جلد چهارم مقابلہ نہیں کر سکتا۔انہوں نے دریافت کیا کہ کیا کوئی مسلمان اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا ؟ انہیں بتایا گیا کہ نہیں۔انہیں اس قدر غیرت آئی کہ گو ایک ضروری کام کے لئے جا رہے تھے مگر وہیں ٹھہر گئے اور تیرنے کی مشق شروع کر دی۔آخر اسے چینج کیا کہ آؤ مقابلہ کر لو۔اور پھر اسے شکست دی۔تو اگر مسلمان بزرگ اپنے اندر اس قدر غیرت رکھتے تھے کہ انہیں یہ بھی گوارا نہ تھا کہ تیرنے میں کوئی سکھ مسلمان سے بڑھ جائے تو تعلیمی لحاظ سے ہمیں جس قدر دوسروں سے ممتاز رہنے کی کوشش کرنی چاہئے وہ ظاہر ہے۔ہمیں کوشش کرنی چاہئے کہ نہ صرف دین میں ہی غالب رہیں بلکہ دنیا کے کاموں میں بھی ہر طرح سے دوسروں پر فضیلت حاصل کر سکیں۔بے شک یہ ایک خواب اور خیال ہے مگر زندہ قوموں کے خواب پورے ہو کر رہتے ہیں۔دنیا میں انسان کے تمام اعمال کے پیچھے دراصل خیال ہی کی طاقت ہے جو اسے کامیاب کرتی ہے۔کسی کام میں خواہ کتنی محنت اور کوشش کی جائے اگر خیالات اعلیٰ نہ ہوں تو کامیابی نہیں ہو سکتی۔لیکن اگر خیالات اعلیٰ ہوں تو تھوڑی سی محنت اور جد و جہد سے بھی زیادہ کامیابی حاصل ہو سکتی ہے۔بچپن میں ہمیں سکول میں ایک کتاب پڑھائی جاتی تھی جس میں ایک کہانی تھی کہ کسی عورت کے بچہ کو عقاب اٹھا کر لے گیا اور لے جا کر پہاڑ کی ایک ایسی بلند چوٹی پر رکھ دیا جہاں اس علاقہ کا کوئی آدمی چڑھ نہ سکتا تھا۔ماں کی مامتا مشہور ہے اور اس نے اس کے اندر ایسے جذبات پیدا کر دیے کہ باوجود یکہ راستہ نہایت دشوار گزار تھا، چوٹی بالکل سیدھی تھی اور کہیں آسانی سے پاؤں رکھنے کی جگہ نہ تھی مگر وہ چڑھتی چلی گئی اور اپنے بچہ کو جا کر اٹھا لیا۔لیکن جب بچہ اس کو مل گیا تو اس کے ساتھ ہی وہ جذبات بھی ڈھیلے پڑ گئے جن کے ماتحت وہ او پر پہنچ گئی تھی اور اسے محسوس ہو گیا کہ اس کے لئے نیچے اتر نا مشکل ہے۔اس پر اس نے شور مچانا شروع کیا اور لوگوں نے بڑی مشکل سے اسے وغیرہ پھینک کر اسے نیچے اتارا۔تو جب جذبات اور خیالات میں طاقت اور مضبوطی ہو تو ان کے پیچھے جو اعمال ہوتے ہیں ان میں کامیابی زیادہ آسان