زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 96 of 348

زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 96

زریں ہدایات (برائے طلباء ) 96 جلد چهارم نکلے تو میرا دل دھڑکا کرتا ہے کہ کہیں لوگوں کی نماز نہ رہ جائے۔عورتوں میں یہ مرض مردوں کی نسبت زیادہ پایا جاتا ہے۔اگر کوئی نماز ضائع ہو جائے تو انہیں اس کی چنداں پرواہ نہیں ہوتی۔لیکن معلوم ہونا چاہئے کہ چھوٹے چھوٹے نقائص بھی ایمان کے ضائع کرنے کا موجب بن جاتے ہیں۔یہاں ایک فلاسفر ہے اسے اس قسم کی باتوں پر بحث کرنے کی عادت ہے۔ایک دفعہ روزے کا سوال پیدا ہوا تو اس نے روزہ کی افطاری کے وقت سے ایک آدھ منٹ پہلے روزہ کھول لیا یا سحری کچھ پیچھے کھالی۔مجھے اب صحیح طور پر یاد نہیں رہا۔لوگوں نے جب اس سے پوچھا تو وہ کہنے لگا کہ اتنے سے فرق سے کیا بنتا ہے۔دومنٹ پہلے روٹی کھائی یا چار منٹ بعد میں کھالی اس میں کون سا فرق پڑ جاتا ہے۔وہ سارا دن لوگوں سے اس مسئلہ پر بحث کرتا رہا۔رات کو جب وہ سویا تو اس نے ایک خواب دیکھا۔وہ ذات کا جلا ہا ہے خواب بھی اس نے جلا ہوں والا ہی دیکھا۔اس نے دیکھا کہ وہ سوت کو پان دینے لگا ہے۔سوت کو پان لگانے کے لئے کیلے گاڑے جاتے ہیں۔ایک کیلا ایک طرف ہوتا ہے اور دوسرا کیلا اس سے کچھ فاصلہ پر دوسری طرف۔پھر اس پر ایک جھاڑو سا پھیرتے ہیں۔اس نے دیکھا کہ اس نے سوت کو ایک طرف کے کیلے سے باندھا ہے اب وہ اس کا دوسرا سرا دوسرے کیلے کی طرف باندھنے کے لئے لے جا رہا ہے۔جب وہ اس کیلے کے قریب پہنچا تو دیکھا کہ سوت چھوٹا ہے اور کیلے تک نہیں پہنچتا۔کیونکہ کیلا غلط اندازے سے ذرا آگے گڑ گیا ہے۔اب سوت اس کے ہاتھ میں ہے اور وہ خواب میں شور مچارہا ہے اور لوگوں کو پکار پکار کر کہہ رہا ہے کہ دوڑ یو دو انگلیوں کے فرق سے میرا سارا سوت خراب ہونے لگا ہے۔اس پر اس کی آنکھ کھل گئی اور اسے سمجھ آ گئی اگر دو انگلیوں کے فرق سے سوت خراب ہو سکتا ہے تو دومنٹ کے فرق سے روزہ کیوں خراب نہیں ہوتا۔پس محنت کی اگر عادت نہ ہوگی تو نمازوں میں بھی سستی ہوگی ، روزوں میں بھی سستی ہوگی اور دوسرے کاموں میں بھی سستی ہوگی۔اسی طرح اگر وفاداری نہیں ہوگی تو منافقت