زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 91
زریں ہدایات (برائے طلباء) 91 جلد سوم پر ہی قناعت کر رہا ہے اور مغز کے حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرتا۔ان احکام کو ظاہری طور پر ادا کرنا تو گویا ایک سیڑھی کی مانند ہے اب اگر انسان سیڑھی پر ہی کھڑا رہے اور چھت پر نہ پہنچے تو کیا اسے مطمئن ہو جانا چاہئے کہ اس نے اپنا کام کر لیا۔اس طور سے حقیقت اور مغز کو نظر انداز کرنے کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ نمازیں ریاء کی نماز میں ہو جاتی ہیں اور روزے سمعت کے روزے ہو جاتے ہیں۔غرضیکہ دین کی طرف توجہ کی جائے لیکن اس عیب سے احتیاط کے ساتھ بچنا چاہئے کہ ہمارے اعمال ریاء کے طور پر نہ ہو جائیں اور احکام شریعت کو ظاہری طور پر ادا کر لینے پر مطمئن نہیں ہو جانا چاہئے۔تیسری بات یہ ہے کہ علم کے سیکھنے میں یہ خیال نہ کرو کہ اپنے سے ادنیٰ سے علم سیکھنے میں ہماری ہتک ہے۔علم کی ترقی میں یہ بات بہت بڑی روک ہو جاتی ہے۔یہ مرض آجکل کے کالج کے طلباء میں بہت پایا جاتا ہے۔وہ اگر کسی بات کو قبول کرتے ہیں تو صرف اس بات کو جو ان کے کورس میں ہو۔اس کے سوا اگر کسی دوسرے سے اس علم کے متعلق جو دہ پڑھ رہے ہوں کوئی بات سنیں تو یا تو اس کی طرف توجہ ہی نہیں کریں گے اس خیال سے کہ بھلا جب ہم نے اس علم کا کورس پڑھا ہوا ہے تو ہم سے زیادہ دوسرا شخص کس طرح جان سکتا ہے اس کی بات محض لغو اور اٹکل پچو ہوگی۔اور یا پھر اگر کسی دوسرے سے کوئی بات سنیں گے بھی تو چاہے اس سے پہلے وہ بات ان کے وہم میں بھی نہ آئی ہو یہی کہیں گے کہ ہم کو تو اس بات کا پہلے سے علم ہے۔اپنے علم کو ہر ایک سے زیادہ خیال کریں گے اور سمجھیں گے کہ ہم سے زیادہ کسی کا علم اگر ہوسکتا ہے تو ایک کورس کا ہی ہو سکتا ہے۔اس بات کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ نہ وہ کسی اور کی بات پر توجہ کرتے ہیں اور نہ ان کا علم ترقی کرتا ہے۔ان کا علم کو رس تک ہی محدودرہتا ہے۔یہ اگر اپنے ہی استادوں کی طرف دیکھیں جن سے وہ علم سیکھتے ہیں یعنی یورپ کے ماہرین علوم کی طرف دیکھیں جن کی تصانیف میں سے چند کتابیں ان کے کورس میں داخل ہیں تو ان کو معلوم ہو کہ وہ لوگ جو علوم کی تہہ تک پہنچے ہیں