زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 83
زریں ہدایات (برائے طلباء) 83 جلد سوم شائبہ بھی اس میں نہ پایا جائے۔لیکن یہ یادر ہے کہ صادق القول ہونے کی صفت کو حاصل کرنے کے متعلق ایک احتیاط کی ضرورت ہے۔اس احتیاط کو اگر مد نظر نہ رکھا جائے تو اس صفت کے مقابلے میں ایک عیب کے پیدا ہو جانے کا احتمال ہے اور وہ عیب سوء اخلاقی اور بے ادبی کا عیب ہے۔اس کی تفصیل یہ ہے کہ صرف ضرورت حقہ کے موقع پر سچی بات کا بیان کرنا ضروری ہوتا ہے۔ہر جگہ اور ہر موقع پر بغیر کسی ضرورت کے سچی بات کا اظہار کر دینا بعض اوقات سوء اخلاقی کے عیب کا رنگ اختیار کر لیتا ہے۔مثلاً ایک شخص کو اپنے کسی ایک بھائی کے بعض عیوب کا علم ہے اگر وہ مجلس میں سب لوگوں کے رو برواس کے عیوب کا اظہار شروع کر دے تو ایسا شخص اگر چہ بیچ ہی بول رہا ہو گا لیکن اخلاق فاضلہ اس کے اس فعل کے متقاضی نہیں ہیں۔اس شخص کا سچی بات بیان کرنا اس موقع پر خدا کی رضا کا نہیں بلکہ خدا کی ناراضگی کا موجب ہوگا۔انسان خود اپنے متعلق بعض باتوں کا اظہار کرنا مناسب نہیں سمجھتا۔مثلاً اسے علم ہو کہ آج اس کی والدہ نے غسل کیا ہے تو کیا اس بات کو (اگر چہ بچی ہے ) لوگوں کے سامنے بیان کرنا نا مناسب خیال نہیں کرتا ؟ پس جب خود اپنے نفس کے متعلق وہ تمام باتوں کا اظہار نہیں کرتا (اگر چہ وہ باتیں کچی ہی ہوں ) تو دوسروں کے متعلق کیوں اس بات کو پسند کرتا ہے۔تو اس بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ جھوٹ سے بلکلی اجتناب ہو لیکن سچ بولنے کے لئے ضرورت اور موقع کا لحاظ رکھا جائے تا ایسا نہ ہو کہ بداخلاقی پیدا ہو جائے۔پھر بعض موقعوں پر ضروری بھی ہوتا ہے کہ سچی بات کا اظہار کر دیا جائے لیکن بات کے بیان کرنے کا ایسا طریق اختیار کیا جاتا ہے کہ بے ادبی کا عیب پیدا ہو جاتا ہے۔دیکھو ایک ہی مفہوم کو کئی طریق سے ادا کیا جا سکتا ہے۔مثلاً کسی کو کہنا ہو کہ کھانا کھا لوتو کئی فقرے ہو سکتے ہیں مثلاً کھانا تناول فرمائیے بھی کہہ سکتے ہیں اور کھانا ٹھونس لیجئے“ یا ”کھانا نگل لیجئے“ بھی کہہ سکتے ہیں۔اگر چہ مطلب ان سب فقروں کا ایک ہی ہے کہ کھانا کھا لولیکن اس مطلب کو ایک طریق سے ظاہر کیا جائے تو ادب اور اخلاق بھی قائم رہتے ہیں مگر دوسرے طریق