زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 79 of 362

زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 79

زریں ہدایات (برائے طلباء) 79 جلد سوم پھر ایک اور بات یاد رکھو کہ ہم نہ اس گورنمنٹ کو اور نہ کسی اور گورنمنٹ کو بے عیب سمجھتے ہیں۔عیب ہر گورنمنٹ میں ہوتے ہیں اور اس میں بھی ہیں۔وہ لوگ جو یہ خیال | کرتے ہیں کہ اس گورنمنٹ میں کوئی نقص نہیں ان کے سامنے جب نقائص پیش کیے جاتے ہیں تو وہ حیران ہو جاتے ہیں۔ہم یہ نہیں کہتے کہ اس گورنمنٹ میں کوئی عیب نہیں اس لئے ہم اس کے خلاف آواز نہیں اٹھاتے۔بلکہ ہمیں گورنمنٹ کے عیب دوسروں کی نسبت بہت زیادہ معلوم ہیں اور ہم بہت زیادہ زور کے ساتھ ان کے خلاف آواز اٹھا سکتے ہیں مگر گورنمنٹ کے عیب کی نسبت ساری دنیا میں جو عیب ہے وہ چونکہ بہت بڑا ہے اس لئے ہم اپنی ساری طاقت اس کے دور کرنے میں صرف کرنا چاہتے ہیں۔ہماری جماعت تھوڑی ہے اور ہمارے کام کرنے والے کم ہیں اگر ہمارے آدمی گورنمنٹ کے پیچھے پڑ جائیں تو اصل کام کرنے سے رہ جائیں گے۔قرآن کریم میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ انسان عاجل | ہے یعنی جلدی حاصل ہونے والے نفع کے پیچھے پڑ جاتا ہے۔اور یہ صاف بات ہے کہ سیاسیات کے متعلق چونکہ انسان سمجھتا ہے کہ مجھے کوئی عہدہ مل جائے گا اس لئے اپنی ساری کوشش اس میں صرف کر دیتا ہے اور دوسری طرف متوجہ نہیں ہوسکتا۔یہ درست ہے کہ سیاسیات میں پڑنے والے سب لوگوں کو عہدے نہیں مل جاتے لیکن ملنے کی امید پر ہی لوگ خوش ہوتے اور اس میں مصروف رہتے ہیں اور ایسے لوگ دوسری طرف توجہ نہیں کر سکتے۔ہمارے سیاسیات سے علیحدہ رہنے کی اور بھی وجوہات ہیں مگر یہ بڑی وجہ ہے کہ ہم چاہتے ہیں ہماری ساری کی ساری جماعت اپنی ساری قوت اور سا راز در اشاعت اسلام میں لگا دے۔کوئی پیشہ ور ہے تو اپنے پیشہ میں ، اگر کوئی تاجر ہے تو اپنی تجارت میں ، اگر کوئی ملازم ہے تو اپنی ملازمت میں اسی بات کو مد نظر رکھے اور اس کیلئے کوشش کرتا رہے۔پس سیاسیات میں حصہ لینے سے روکنے کی وجہ ہماری یہ مصروفیت ہے۔کیونکہ اگر ہماری جماعت سیاسیات میں پڑ گئی تو اصل کام کو بھول جائے گی۔تمہیں اگر کوئی گورنمنٹ کے نقص اور عیب بتائے تو تم کہو ہم پہلے ہی ان باتوں کو۔