زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 78 of 362

زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 78

زریں ہدایات (برائے طلباء) 78 جلد سوم ہیں کہ جس سے لڑائی ہو اس کی قوم ، اس کے مذہب تک کو گالیاں دے دیتے ہیں حالانکہ کوئی قوم ایسی نہیں جو ساری کی ساری بری ہو۔مغل، پٹھان ، سید اقوام میں اچھے لوگ بھی ہوتے ہیں اور برے بھی۔اسی طرح کوئی مذہب ایسا نہیں جو سارے کا سارا برا ہو۔ہاں ایک مذہب ایسا ہے جو سارے کا سارا اچھا ہے اور وہ اسلام ہے مگر سارے کا سارا کوئی مذہب برا نہیں۔پس اگر کسی انسان سے کوئی تکلیف پہنچے تو اس ایک کی وجہ سے ساری قوم یا مذہب اور سلسلہ پر حرف نہیں آسکتا۔خواہ کوئی انسان کتنا بڑا ہو تو بھی وہ برائی اس سے ہی تعلق رکھے گی سلسلہ اس کا ذمہ دار نہیں ہوگا۔تمہارے دلوں میں اگر استادوں یا ہیڈ ماسٹر یا سپرنٹنڈنٹ کے متعلق کوئی شکایت ہو تو اس کو یہاں سے جانے سے پہلے نکال دو تا کہ وہ۔ایک خراب بیج کی طرح تمہارے ساتھ نہ جائے۔تم اچھی باتوں کو یاد رکھو اور سب بری باتوں کو بھلا دو۔اس کے بعد میں ایک اور نصیحت کرتا ہوں اور وہ یہ کہ تمہیں بار بار قادیان آنے کی کوشش کرنی چاہئے۔یہ بہت ضروری بات ہے۔تمہاری مثال ایسی ہے جیسے کوئی شخص گھر سے مال لے کر ڈاکوؤں میں جائے۔تم گھر سے اسی طرح جا رہے ہو۔ہو سکتا ہے کہ تم اپنے مال کی حفاظت کرو اور اس عمدگی سے کرو کہ ڈاکو بھی تمہارے ساتھ ہو جائیں اور بجائے تم سے مال چھین کر تمہیں تہی دست کرنے کے تمہارے مددگار بن جائیں۔اور ہوسکتا ہے تم اس کی حفاظت نہ کرو اور گھر سے نکل کر دو ہی قدم جانے پر تم سے چھین لیں۔اگر تم یہ خیال کرو گے کہ تمہیں ایسے مخالفین میں جانا ہے جو تم سے تمہارا مال چھینے کی کوشش کریں گے اور تمہیں احتیاط کرنے کی ضرورت ہے تو ۹۹ فیصدی امید ہے کہ حفاظت کر سکو گے۔اور اگر اس کے خلاف کرو گے تو ۹۹ فیصدی خطرہ ہے کہ تم لوٹ لیے جاؤ گے۔کیونکہ جو چوکس رہتا ہے وہ اپنی حفاظت کرتا ہے اور جو غافل ہو جاتا ہے وہ نقصان اٹھاتا ہے۔تم اگر خطرہ کو محسوس کرو گے تو چوکس رہو گے اور جب چوکس رہو گے تو دشمن کے وار سے محفوظ رہو گے۔لیکن اگر غافل ہو جاؤ گے تو نقصان اٹھاؤ گے۔