زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 73
زریں ہدایات (برائے طلباء) 73 جلد سوم بالکل علیحدہ ہو جاتے ہیں۔وہ کچھ لکھ پڑھ تو لیں گے کیونکہ اس قدر علم کا مٹانا اور فراموش کرنا ان کے بس کی بات نہیں ہوتی کہ سب کچھ فراموش کر دیں مگر جو تعلیم انہوں نے حاصل کی ہوتی ہے اس کا ان پر کوئی اثر نہیں ہوتا اور وہ تعلیم چھوڑ کر اسی جڑ سے جا ملتے ہیں جس سے کاٹ کر انہیں الگ کیا گیا تھا۔ایک اور لوگ ہوتے ہیں جو دنیاوی کاموں میں لگ جاتے ہیں مگر علم میں بھی ترقی کرتے جاتے ہیں یہاں تک کہ اچھے عالم ہو جاتے ہیں۔کئی لوگ ایسے ہوتے ہیں جو انٹرنس تک پڑھے ہوتے ہیں لیکن ان کی قابلیت بی۔اے اور ایم۔اے پاس جتنی ہوتی ہے بلکہ ان سے بھی زیادہ۔یہ سب اقسام کے لوگ اپنے دل میں نقشے کھینچتے ہیں جن میں سے بعض کے نقشے بہترین ہوتے ہیں، بعض کے بدترین اور بعض کے درمیانہ درجے کے۔بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ جتنے آدمی ہوتے ہیں اتنے ہی درجوں کے نقشے کھنچتے ہیں کیونکہ ہر ایک کا نقشہ الگ الگ ہوتا ہے۔بعض تو ایسے ہوتے ہیں کہ جنہیں آئندہ زمانہ کا خیال ہی نہیں ہوتا۔وہ پڑھنے لکھنے کی طرف چنداں توجہ ہی نہیں کرتے لیکن ان میں سے بھی بعض بہترین انسان نکل آتے ہیں۔اور بعض ایسے ہوتے ہیں جو دن رات پڑھنے میں لگے رہتے ہیں ، اپنی آئندہ زندگی کے متعلق بڑے بڑے منصوبے باندھتے ہیں مگر جب وقت آتا ہے تو کچھ بھی نہیں نکلتے۔ان کی مثال شیخ چلی کی کہانی کی ہوتی ہے۔کہانی مشہور ہے کہ شیخ چلی کو کہیں سے چند پیسے مل گئے۔اس نے ان کے انڈے خرید لئے اور خیال کرنے لگا کہ ان سے بچے نکلواؤں گا۔پھر ان کو بیچ کر اور خرید لوں گامتی کہ اسی طرح بڑا دولت مند بن جاؤں گا اور وزیر کی لڑکی سے شادی کرلوں گا۔جب وہ آئے گی تو اس پر رعب بٹھانے کیلئے اس سے بات نہیں کروں گا اور جب وہ منانے لگے گی تو یوں اسے لات ماروں گا۔یہ خیالی پلاؤ پکاتے ہوئے اس نے لات ماری اور سارے انڈے توڑ دیئے۔طالب علم یہ قصہ سنتے اور سن کر ہنتے ہیں حالانکہ ان کی اپنی حالت اسی قصہ کی مانند