زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 69
زریں ہدایات (برائے طلباء) 69 جلد سوم تھا کہ اسلام اور مسلمانوں نے دنیا کے دل موہ لئے تھے مگر آج ترکوں کو یورپ سے اس لئے نکالا جا رہا ہے کہ وہ مسلمان ہیں۔اور کہا جاتا ہے کہ ترکوں کے یورپ میں رہنے سے یورپ کی ہتک ہے۔کیوں؟ اس لئے کہ ان میں اصلی اسلام نہ رہا۔پس تمہارے لیے ضروری ہے کہ تم اس چیز کو ضائع نہ ہونے دو جس پر تم جائز فخر کر سکتے ہو۔اور یہ اسی طرح ہو سکتا ہے کہ تم اپنے اخلاق کو درست کرو۔اخلاق کی درستی اگر ہو جائے تو دین و دنیا دونوں کامل ہو جاتے ہیں۔اور جب تک ایک شخص کے اخلاق درست نہ ہوں وہ خدا کا قرب حاصل نہیں کر سکتا۔ایک جھوٹے دغا باز کو دین حاصل نہیں ہو سکتا اور نہ وہ لوگوں کے دلوں پر قابو پاسکتا ہے اور نہ خدا ہی کی محبت پر اس کو قابو ہو سکتا ہے پس اخلاق کے بغیر نہ دین مل سکتا ہے نہ دنیا۔جیسا کہ میں نے پچھلی دفعہ اخلاق پر بحث کی تھی اور بتایا تھا کہ اعلیٰ اخلاق بچپن میں ہی حاصل ہوتے ہیں۔چین میں عورت کا پیر بہت چھوٹا ہوتا اس کی زینت خیال کیا جاتا ہے۔لیکن اس کا پیر بڑی عمر میں تراش کر چھوٹا نہیں بنایا جا تا بلکہ چھوٹی عمر میں ہی لوہے کا موزہ پہنا دیا جاتا ہے۔اسی طرح تم کو اپنے اندر اعلیٰ اخلاق ابھی سے پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہئے کیونکہ اگر اب نہیں کرو گے تو بڑے ہو کر یہ باتیں پیدا کرنی مشکل ہوں گی۔تم نے سنا ہوگا شاہ دولہ کے چو ہے جو کہلاتے ہیں ان میں سے بعض کے سر بچپن میں ہی چھوٹے بنائے جاتے ہیں پس تمہارے لئے یہ وہ زمانہ ہے کہ تم ہر اچھی بات کا بیج اپنے دل میں بو سکتے ہو اور بڑے ہو کر اس بیچ کو بڑا درخت پاؤ گئے۔لیکن اگر اب ستی کرو تو بڑے ہو کر یہ باتیں حاصل کرنا مشکل ہوں گی۔مثلا تم بچپن میں سنتے ہو کہ مسیح موعود آ گیا اور ابھی سے تم آپ کی صفات کے دلائل سنتے ہو اور اپنے دل کو بالکل تیار پاتے ہو اور سانچے میں ڈھل جاتے ہو۔لیکن جس نے تیس برس کی عمر میں سنا اور پھر ما نا اس کو گویا اپنا جسم تراش کر پھر اپنے آپ کو تیار کرنا پڑے گا۔پس یہ تمہارا بہت قیمتی وقت ہے۔تم اس وقت اخلاق کی درستی میں مصروف ہو جاؤ۔یہ ضروری نہیں کہ تم کسی ملک کے بادشاہ ہو یا وزیر ہو یا مد بر