زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 70
زریں ہدایات (برائے طلباء) 70 جلد سوم ہو جاؤ ، ذمہ دار افسر ہو جاؤ تب اخلاق حاصل کرو گے۔بلکہ ابھی سے کھیل کے میدان میں تم ان تمام فرائض اور اعلیٰ اخلاق کو سیکھ سکتے ہو جو آئندہ عمر میں تمہیں بہترین انسان بنائیں۔تمہارے لئے فٹ بال کا میدان ہی اخلاق سکھانے کا میدان ہے۔اس میں تم وسیع القلب ، بردبار، جفاکش، صداقت شعار، راستی پر جان دینے والے بن سکتے ہو اور ایثار کرنا اسی میں سیکھ سکتے ہو۔اور قربانی کا مادہ اسی میں پیدا ہوسکتا ہے۔مثلاً تم فٹ بال لئے جارہے ہو اور ایسے موقع پر ہو کہ اگر تمہاری لک (Kick) لگ جائے تو گول ہو سکتا | ہے مگر خطرہ زیادہ ہے ہاں اگر تم دوسرے کو بال دو اور وہ لک لگائے تو یقینا گول ہوسکتا ہو۔لیکن اُس وقت دو حالتیں ہیں۔اگر تمہاری تک سے گول ہو تو واہ واہ تمہیں ملے گی اور اگر دوسرے کو بال دو جس کی سلک سے گول ہونا یقینی ہے تو ساری پارٹی کی عزت ہوئی۔اُس وقت تمہارا کیا فرض ہونا چاہئے؟ کہ تم ذاتی تعریف کے خیال کو چھوڑ کر اپنی پارٹی کی عزت کے خیال سے بال دوسرے کو دے دو۔جب تم یہ ایثار کرنا سیکھ لو گے تو بڑے ہو کر تم بڑے بڑے ایثار کرنا کوئی بڑی بات خیال نہ کرو گے۔یا اگر کوئی تمہیں شولڈر (Shoulder) مارتا ہے اُس وقت دو حالتیں ہوں گی۔یا تو تم اپنے دل میں کی نہ بٹھاؤ اور خیال کرو کہ اگر یہ میرے پاس سے اب گزرا تو میں اس کو وہ ضرب لگاؤں گا کہ یاد ہی کرے۔یا تم یہ خیال کرو کہ اس سے غلطی ہو گئی اس کو معاف کر دینا چاہئے۔اب تم خاموش رہو۔اگر وہ پھر ایسی شرارت کرے تو اس کو جتا دو کیونکہ اگر اس نے برا کام کیا ہے تو تم وہی کام کر کے کیوں برے بنو۔اس سے تمہیں در گذر اور عفو کر نا آجائے گا اور تم قانون شکن نہیں بنو گے۔پس تم جھوٹ سے بچنا ، ایثار کرنا ، بہادری دکھلانا ، جرأت سے کام لینا ، عفو و درگذر، قربانی کرنا ، قوم کی عزت کا خیال ذاتی عزت پر مقدم کرنا یہ سب باتیں اسی میدان میں سیکھ سکتے ہو اور اسی سکول میں تم اخلاق سیکھو۔یہی باتیں تھیں جو پہلے بیان کی تھیں اور آج پھر دُہرا دی ہیں۔