زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 67
زریں ہدایات (برائے طلباء) 67 جلد سوم صلیبی جنگیں۔یہ جنگیں عیسائیوں اور مسلمانوں کے درمیان اس شام کے لئے ہوئی تھیں جس سے اب مسلمان نکال دیئے گئے ہیں۔یورپ کی تمام طاقتیں ایک طرف تھیں۔انگلستان، جرمنی، آسٹریا، فرانس، اٹلی ، قسطنطنیہ، سائپرس کی فوجیں آئیں مگر ایک صلاح الدین کے مقابلہ میں سب ناکام رہی تھیں۔اس کی کیا وجہ تھی ؟ یہی کہ اُس وقت مسلمان مسلمان تھے۔مسلمانوں کا ایک سپاہی بھی معزز اور محترم تھا۔اُس زمانہ کا ایک عیسائی مؤرخ جوان جنگوں میں شامل تھا لکھتا ہے کہ مسلمانوں کی زبانی بات ہمارے نزدیک زیادہ مسلم ہے بمقابلہ عیسائی بادشاہوں کے متفقہ اقرار کے۔اسی طرح حضرت عمرؓ کے عہد کا واقعہ ہے کہ کسی موقع پر ایک حبشی مسلمان سپاہی نے عیسائیوں کی شرائط مان کر صلح کر لی۔وہ غریب سپاہی اور سیاست سے ناواقف محض اس پر رضا مند ہو گیا کہ جنگ ختم ہو جائے گی۔جب مسلمان جرنیل فتح کرتا ہوا وہاں گیا تو عیسائیوں کی طرف سے کہا گیا کہ یہ معاہدے کے خلاف ہے۔جرنیل نے کہا ہم نے تو کوئی معاہدہ نہیں کیا۔عیسائیوں کی طرف سے کہا گیا کہ تمہارے ایک آدمی نے معاہدہ کیا ہے۔دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ ایک حبشی مسلمان سپاہی معاہدہ کر گیا ہے۔اس پر اختلاف ہونے لگا کہ اس کو کیا حق تھا۔بعض صحابہ نے کہا کہ اب چونکہ یہ مسلمان معاہدہ کر چکا ہے اس لئے اس کی پابندی ضروری ہے۔معاملہ حضرت عمر تک گیا۔آپ نے فرمایا کہ جو کچھ ہو گیا ٹھیک ہو گیا۔میں ایک مسلمان کی زبان کو جھوٹا نہیں کرنا چاہتا 1 تو وہ ایسا وقت تھا کہ جب ایک معمولی مسلمان کی بات کو بادشاہوں کی تحریر پر وقعت حاصل ہوتی تھی۔پھر مسلمانوں کی دیانت کی یہ کیفیت تھی کہ حضرت عمرؓ کے عہد ہی کا واقعہ ہے ایک علاقہ مسلمانوں نے فتح کیا۔وہاں کے لوگوں سے جزیہ یعنی حفاظت کا خرچ لیا لیکن عیسائیوں کی فوجیں آگئیں اور مسلمانوں کو پیچھے ہٹنا پڑا۔اس پر مسلمان جرنیل نے وہ تمام رقم جو اس علاقہ سے بطور ٹیکس حفاظت لی تھی واپس کر دی اور کہا کہ ہم نے یہ رقم حفاظت کے لئے لی تھی مگر چونکہ اس وقت ہم تمہاری حفاظت نہیں کر سکتے اس لئے واپس کرتے