زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 66 of 362

زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 66

زریں ہدایات (برائے طلباء) 66 جلد سوم وجہ سے وہ اپنی کوئی عزت نہیں سمجھتے۔اس لئے ان میں غیرت بھی پیدا نہیں ہوتی۔مگر وہ قوم جس سے تعلق رکھتے ہیں وہ بہت بڑی ہے اس لئے اس کی طرف سے اس کے لئے غیرت ہونا ضروری ہے۔مثلاً ایک انگریز جو اپنے ملک میں چوہڑے یا موچی کا کام کرتا ہے مگر جب وہ یہاں آئے گا تو صاحب بہادر ہی کہلائے گا کیونکہ وہ انگریز قوم سے تعلق رکھتا ہے جو معزز ہے۔اس سے ثابت ہوا کہ قوموں کی عزت افراد کی طرف منتقل ہوا کرتی ہے۔اگر چہ اس انگریز نے اپنے باپ سے تو کچھ ورثہ نہ پایا ہومگر اس کی دوسری جائیداد انگریزی طاقت ہے اس لئے وہ چوہڑے کا لڑکا اپنے باپ کے لحاظ سے چوہڑے کا لڑکا ہے مگر قوم کے لحاظ سے وہ انگریز قوم کا وارث ہے۔اسی طرح فردا فردا تم میں کوئی کلرک کا بیٹا ہے کوئی زمیندار کا کوئی ڈاکٹر کا کوئی انجینیئر کا کوئی ماسٹر کا یا کوئی کسی پیشہ ور کا۔ان پیشوں میں خواہ اس کا کتنا ہی کم حصہ اور ورثہ ہو مگر ایک اس کے پاس بہت بڑا ورثہ ہے جو باپ کے ورثہ کے ماسوا ہے اور وہ ، وہ ورثہ ہے جو اس قوم کی طرف سے ملتا ہے جس کا اس کا باپ ممبر ہے۔پس ہر ایک شخص دو ورثہ رکھتا ہے۔ایک باپ کا ورثہ ایک قوم کا ورثہ۔باپ کی جائیداد اور ورثہ کی نسبت قومی ورثہ زیادہ قیمتی ہوتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ ایک زمیندار یا کوئی پیشہ ور جو کابل کو جا رہا ہے اس لئے ترکوں کو مصائب در پیش ہیں ورنہ اگر غور کیا جائے تو اس پیشہ ور کا تو کچھ نقصان نہیں۔مگر اس کی بہت بڑی چیز کا نقصان ہو رہا ہے اور وہ اس قوم کی عزت جارہی ہے جس کا یہ ایک فرد ہے۔گو یہ لفظوں میں نہ بیان کر سکے مگر اس کے دل کی یہی حالت ہے کہ مسلمان قوم میں سے ہونے کا جو ورثہ اس کو ملا تھا وہ اب جا رہا ہے۔تم میں سے ہر ایک سیاستِ اسلامی کا وارث ہے۔یہ دنیا سے چھینی گئی۔کوئی زمانہ تھا۔که اسلام روشنی پھیلانے کا ذریعہ سمجھا جاتا تھا اور اسلام کے ایک فرد کی زبانی بات کو دوسروں کی تحریروں سے زیادہ وقعت دی جاتی تھی اور مسلمانوں کے زبانی اقرار پر اتنا بھروسہ ہوتا تھا کہ بے وفائی کا مخالفوں کو خیال تک نہ آتا تھا۔کروسیڈز (Crusades)