زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 65
زریں ہدایات (برائے طلباء) 65 جلد سوم چاہا کہ وہ ان کے پاس رہیں اور وہ ان کو کچھ علاقہ دے دیں۔جیسا کہ پٹھان شہزادے جب آتے ہیں تو گورنمنٹ برطانیہ ان کو کچھ دے دلا کر رکھ لیتی ہے۔لیکن ہمارے پر دادا نے کہا کہ ہم تو چند روز کے لئے آئے ہیں قادیان ہی جائیں گے۔مگر اسی حالت میں ان کا انتقال ہو گیا۔میرے دادا یعنی حضرت صاحب کے والد صاحب کی عمر اُس وقت چودہ پندرہ سال کی تھی انہوں نے کہا کہ میں اپنے والد کو قادیان میں ہی دفن کروں گا۔ان کو ہر چند سمجھایا گیا مگر انہوں نے یہی جواب دیا کہ جب ہم نے قادیان ہی جانا ہے تو میں اپنے والد کو یہاں کیسے دفن کر دوں۔قادیان میں ہی دفن کروں گا۔چنانچہ وہ لاش لے آئے اور یہاں دفن کی۔پھر اس شوق میں دہلی گئے کہ وہاں علم سیکھوں گا۔چنانچہ وہاں علم حاصل کیا۔اور جگہوں میں بھی تعلیم پائی۔طب میں کمال حاصل کیا۔خدا نے اس فن میں آپ کو خاص ملکہ دیا تھا۔باہر ریاستوں میں ملازمتیں کیں اور جدی جائیداد کے حاصل کرنے کا سامان کیا۔جب کوئی اور ذریعہ نہ ہوا تو آپ نے غیرت کے ماتحت بہت سا روپیہ جمع کیا کہ مقدمات کے ذریعہ اپنا علاقہ حاصل کرلوں گا۔وہ زمانہ ایسا تھا کہ لوگوں کو زمین کی کچھ قدر نہ تھی۔ہمارے ایک چچانے ایک پورا گاؤں پانسو روپیہ میں خریدا تھا۔ہمارے دادا نے ستر ہزار روپیہ مقدموں میں خرچ کیا۔لوگوں نے کہا کہ آپ قادیان کے علاقہ سے بہت زیادہ زمین خرید سکتے ہیں اس کا خیال چھوڑ دیں۔انہوں نے کہا یہ نہیں ہوسکتا۔قادیان میں زمین لوں گا خواہ ایک بالشت ہی ہو۔غرض انہوں نے غیرت کی وجہ سے قادیان کو نہ چھوڑا۔آخر ان کی غیرت ہی کے باعث رسول کریم ﷺ کی وہ پیشگوئی جو آپ نے آج سے تیرہ سو سال قبل فرمائی تھی کہ مہدی کدعہ میں ہوگا اس طرح پوری ہوئی کہ حضرت صاحب کے والد نے قادیان کو حاصل کیا اور قادیان میں مہدی نے ظہور کیا۔پس غیرت بڑے کام کراتی ہے۔اسی کے ماتحت تم کو بھی میں بتاتا ہوں دو ورثہ انسان کو ملا کرتے ہیں۔ایک باپ کی طرف سے اور ایک قوم کی طرف سے۔جن لوگوں کے ماں باپ کسی ایسے پیشہ سے تعلق رکھتے ہیں جن کو لوگ وقعت سے نہیں دیکھتے اور اس