زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 2
زریں ہدایات (برائے طلباء) 2 جلد سوم ہیں۔آپ نے بھی ایک فرقہ قادیانی سنا ہوگا۔یا آپ اس سے کہاں واقف ہوں گے وہ پنجاب میں ایک نئی جماعت نکلی ہے۔اس نے اپنا نیا قرآن بنا لیا ہے اور نیا ہی کلمہ ایجاد کر لیا ہے۔ہمارے آدمیوں نے کہا اچھا! کوئی ایسی جماعت بھی نکلی ہے جس نے نیا قرآن اور نیا کلمہ گھڑ لیا ہے؟ اس نے کہا ہاں وہ ایک قادیانی جماعت ہے۔انہوں نے کہا کیا جناب نے اُس جماعت کا بنایا ہوا قرآن دیکھا ہے؟ اُس نے کہا میں نے تو نہیں دیکھا لیکن میرے ایک نہایت معتبر دوست نے مجھ سے ذکر کیا ہے اور وہ قرآن ان کے پاس موجود ہے۔اس سے سمجھ لو کہ ہمارے متعلق لوگوں کے کیا خیالات ہیں۔بعض دفعہ تو ایسا ہوتا ہے که بعض سادہ طبع احمدی بھی غیر احمدیوں کی اس قسم کی باتوں کو سن کر ہم سے اس کی تصدیق چاہتے ہیں۔گویا غیر احمدیوں کو ہمارے متعلق اتنا دھوکا ہوا ہے کہ وہ احمدیوں کو بھی دھوکا میں ڈال دیتے ہیں۔کہتے ہیں عرب میں ایک پاگل تھا۔اس کو چھوٹے چھوٹے لڑکے بہت ستایا کرتے تھے۔لڑکوں کی عادت ہے کہ اس قسم کے مخبوط الحواس انسان کو دل لگی کے طور پر چھیڑا کرتے ہیں۔حالانکہ سب بیماروں سے بڑھ کر اس قسم کے بیمار کی حالت قابل رحم ہوتی ہے کیونکہ دوسرے بیمار اپنی حالت کی نسبت کچھ نہ کچھ تو جانتے ہیں لیکن وہ اتنا بھی نہیں جانتا کہ میری کیا حالت ہے اس لئے بہت ہی قابلِ رحم ہوتا ہے اور اس کی حالت بہت ہی قابل خوف ہوتی ہے۔مگر لوگوں میں یہ مرض ہے کہ جو سب سے زیادہ خطر ناک مریض ہوتا ہے اس سے بجائے عبرت حاصل کرنے کے ہنستے اور دل لگی کرتے ہیں۔تو اس کے پیچھے لڑکے پڑے رہتے تھے۔وہ فاطر العقل سا تھا۔جب بہت تنگ ہوتا تو اپنی جان چھڑانے کے لئے لڑکوں کو کہہ دیتا کہ آج فلاں امیر کے ہاں دعوت ہے وہاں دوڑ جاؤ۔لڑکے اسے چھوڑ کر ادھر دوڑ پڑتے۔جب وہ چلے جاتے تو سوچتا کہ میں نے لڑکوں کو جھوٹ بول کر یہ تو کہہ دیا ہے کہ وہاں دعوت ہے جاؤ لیکن کیا ممکن نہیں کہ واقعہ میں وہاں دعوت ہو بھی۔اس صورت میں تو وہ خوب دعوت اڑائیں گے۔لیکن یہ نہیں ہو سکتا