زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 1
زریں ہدایات (برائے طلباء) 1 جلد سوم تبلیغ احمدیت کے آسان طریق مورحہ 8 اگست 1916 ء کو حضرت خلیہ اسیح الثانی نے طلباء تعلیم الاسلام ہائی سکول کو و مدرسہ احمدیہ قادیان سے جو خطاب فرمایا وہ حسب ذیل ہے۔تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔پچھلے سال ایام رخصت کے موقع پر میں نے بیان کیا تھا کہ ہمارے عقائد کوئی نئے عقائد نہیں۔ہماری جماعت کوئی نیا مذ ہب یا کوئی نیا دین دنیا کے سامنے پیش نہیں کرتی۔لیکن باوجود اس کے کہ تمہیں سال سے بھی زیادہ عرصہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعویٰ کو ہو گیا ہے پھر بھی اب تک غیر ممالک کا تو حال ہی الگ ہے۔اسی پنجاب میں جہاں خدا کے فضل سے ہزاروں سے گزر کر لاکھوں انسانوں تک ہماری جماعت پہنچ چکی ہے بہت سے لوگ ایسے ہیں جو کہتے ہیں کہ مرزائیوں نے نیا کلمہ، نیا قرآن اور نیا دین بنالیا ہے۔جب پنجاب کا ہی یہ حال ہے تو دور کے ممالک کا تو اس سے بھی خراب ہوگا۔چنانچہ جب ہمارے آدمی حیدر آباد دکن میں تبلیغ کے لئے گئے تو وہاں ایک بڑے مجتہد سے ان کی گفتگو ہوئی۔وہ جنوبی ہند کے تمام شیعوں کا سرگر وہ تھا۔شیعوں میں قاعدہ ہے کہ ان کا ایک ایسا سرگروہ ہوتا ہے جس کے احکام کے وہ پابند ہوتے ہیں اس سے ملنے کے لئے جب ہمارے آدمی گئے اور اسلام کی حالت پر گفتگو کی تا کہ اسلام کی موجودہ نازک حالت بتلا کر اسے اپنے سلسلہ کی طرف توجہ دلائیں اور بتلائیں کہ اس زمانہ میں مسیح موعود کے آنے کی کیسی ضرورت ہے۔لیکن اس نے خود ہی گفتگو کرتے کرتے کہا آجکل اسلام کی سخت نازک حالت ہو رہی ہے۔دن بدن تفرقہ بڑھتا جاتا ہے۔کئی فرقے نکل رہے