زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 55
زریں ہدایات (برائے طلباء) 55 جلد سوم فرض ہیں پڑھو اور خوب کھیلو۔اور روزے جن پر فرض ہیں وہ رکھیں باقی چھوٹی عمر کے لڑکے نہ رکھیں کیونکہ تمہارے لئے یہ دن طاقت حاصل کرنے کے ہیں۔پس خوب یادرکھو کہ ہر قسم کے اخلاق کی بنیاد اسی عمر میں پڑتی ہے اور اس وقت سے پڑتی ہے جبکہ ابھی بچے ننگے پھرا کرتے ہیں۔یہ مت خیال کرو کہ بڑے ہو کر اعلیٰ اخلاق پیدا کرو گے۔بلکہ وہ اسی عمر میں پیدا ہوں گے۔تم نے ریڈروں میں پڑھا ہوگا کہ نپولین یا نیلسن جو کہ یورپ کے بڑے لوگ ہیں وہ بڑے ہو کر نپولین اور نیلسن نہیں بنے تھے بلکہ وہ اُسی وقت نپولین اور نیلسن بنے تھے جبکہ ابھی وہ بچے ہی تھے۔اگر تم اس وقت کو کھو دو گے تو پھر یہ تمہارے ہاتھ نہیں آئے گا۔اس وقت ملک کی جو حالت ہے وہ محتاج بیان نہیں۔ہندو، مسلمان ، سکھ عام طور پر یہ کہہ رہے ہیں کہ پہلے ہم ہندوستانی ہیں پھر ہندو یا مسلمان یا سکھ۔لیکن یہ غلط ہے اور اس لئے ہے کہ یہ لوگ چاہتے ہیں کہ ہندوستان پر حکومت کریں اور انگریزوں کو نکال دیں حالانکہ یہ طریق ٹھیک نہیں۔فرض کر دا اگر انگریز چلے جائیں تو کیا ہندوستانی حکومت کر سکیں گے؟ ہر گز نہیں کیونکہ ابھی ان کی اخلاقی حالت اچھی نہیں۔جب ہندوستان پر انگریزوں نے قبضہ کیا ہے تو ان کو ایک قطرہ خون کا نہیں گرانا پڑا۔کیونکہ ان میں حکومت کرنے کے اخلاق تھے اور ہم میں نہ تھے۔اب فرض کرو کہ انگریز چلے بھی جائیں تو ان کی بجائے کوئی اور آجائے گا کیونکہ ابھی ہندوستانیوں میں اخلاق پیدا نہیں ہوئے انگریزوں اور دیسیوں میں یہ فرق ہے کہ جو کام ایک انگریز کے سپرد ہو گا وہ اسے خواہ کسی وقت کرنا پڑے کرے گا۔وہ تمام دن لگا رہے گا، راتوں کو جاگے گا، اس وقت تک آرام نہیں لے گا جب تک اس کام کو کر نہ لے گا۔مگر ہندوستانیوں میں عام طور پر اپنے فرائض کو ایسی عمدگی سے بجالانے کی عادت نہیں۔جنگ کے ایام میں ضلعوں کے افسر تک ساری ساری رات جاگتے تھے۔ضلع گورداسپور کے ڈپٹی کمشنر نے اپنے بیرے کو کہہ دیا تھا کہ رات کو جس وقت تار آئے مجھے کو فوراً اطلاع دو۔لوگوں نے بتایا کہ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ گویا وہ رات کو سوتا ہی نہیں۔چنانچہ