زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 52
زریں ہدایات (برائے طلباء) 52 چلید سوم نفع رساں انسان بن گیا یا خراب ہو گیا۔کیونکہ اس زمانہ میں اخلاق کی بنیاد پڑتی ہے۔اگر اس وقت نگرانی کی جائے تو اچھا ہو سکتا ہے ورنہ نہیں۔مگر اصلاح و تربیت کی باتوں سے بعض اوقات استاد بھی واقف نہیں ہوتے۔پس میں تمہیں بتا تا ہوں کہ کس طرح بدیاں یا خوبیاں بچپن میں ہی انسان میں آجاتی ہیں۔دیکھو بخیل کتنا برا ہوتا ہے۔سب اس سے نفرت کرتے ہیں۔اگر کسی کو بخیل کہہ دیا جائے تو وہ سمجھتا ہے کہ مجھے گالی دی گئی ہے۔کہا کرتے ہیں کنجوس لکھی چوس"۔اس کے معنے ہیں یہ شخص ایسا بخیل ہے کہ اگر مکھی اس کی کسی کھانے کی چیز میں گر پڑے تو اس کو بھی چوس لیتا ہے۔لیکن میں تمہیں بتاؤں کہ بخیل کیسے بنتا ہے؟ اور تم حیران ہو گے کہ تمہاری ہی عمر میں انسان کنجوس بنتا ہے۔اور جس وجہ سے بچے کنجوس بنتے ہیں اس کو نہ صرف تم نہیں جانتے بلکہ عام طور پر بچوں کے استاد اور ماں باپ بھی اس سے ناواقف ہوتے ہیں۔وہ میں تمہیں بتا تا ہوں تا کہ تم احتیاط کرو۔یاد رکھو کنجوسی دو قسم کی ہوتی ہے (1) کنجوسی وہ جو عادتا ہوتی ہے (2) وہ جو طبعا ہوتی ہے۔جو کنجوسی عادتاً ہوتی ہے اس کے پیدا ہونے کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ جب کوئی فقیر آتا ہے تو ماں باپ کہتے ہیں خود کماوے کھاوے اس کو دینے کی کوئی ضرورت نہیں۔یہ سن کر بچوں کو کنجوسی اور بخل کی عادت ہو جاتی ہے اور گویا خود سکھائی جاتی ہے۔دوسری قسم بخل کی طبعی بخل ہے۔اس کی وجہ سن کر تم حیران ہو گے کہ جن بچوں کو بچپن میں پاخانہ روکنے کی عادت ہوتی ہے ان میں بجل پیدا ہو جاتا ہے۔یہ بات کہ اس سے کس طرح بخل پیدا ہوتا ہے اور یہ کہ کس طرح اس کا دماغ پر اثر پڑتا ہے باریک باتیں ہیں۔تم ان کو سمجھ نہ سکو گے اس لئے ان کے بیان کرنے کی ضرورت نہیں۔ہاں اتنا بتا دیتا ہوں کہ جو لوگ پیٹ بھر کر کھاتے ہیں اور کچھ دیر پاخانہ کو روکتے ہیں یا مثلاً کھیلتے وقت بچے پاخانے کو روکتے ہیں جب وہ پھر پاخانہ جاتے ہیں تو ان کو پاخانے کے بعد ایک راحت معلوم ہوتی ہے۔چنانچہ مشہور ہے کہ ایک بادشاہ نے پوچھا کہ سب سے آرام دہ کون سی چیز ہے؟ ایک طبیب نے جواب دیا ! حضور پاخانہ کا آجانا۔بادشاہ ناراض ہوا اور اُس کو نکلوادیا۔اس نے باورچی سے مل کر کھانے میں ایک قابض دوا ڈلوانی شروع کی جس سے بادشاہ