زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 48 of 362

زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 48

زریں ہدایات (برائے طلباء) 48 جلد سوم بچوں ، بچوں کے والدین اور نگرانوں کے لئے نصائح 21 جولائی 1920 کو تعلیم الاسلام ہائی سکول قادیان کے ہال میں طلباء ہائی سکول اور مدرسہ احمدیہ قادیان کو ان کے رخصت پر جانے سے قبل حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حسب ذیل نصائح فرمائیں۔آج ہمارے دونوں سکولوں میں چھٹیاں ہونے والی ہیں۔تمام اساتذہ بھی اور شاگرد بھی یا کم از کم ان میں سے اکثر تیار ہورہے ہیں کہ اپنے اپنے گھروں کو جائیں۔ایسے وقت میں کہ عارضی طور پر اس تعلیم سے جدا ہو رہے ہیں جس کے متعلق ان کے والدین کا گمان ہے کہ ان کے لئے اچھی ہوگی اور جس کے لئے ان کو یہاں بھیجا تھا۔دونوں سکولوں کے افسروں نے مجھے سے خواہش کی ہے کہ میں طلباء کو نصیحت کروں جس کو وہ گھروں میں یاد رکھیں اور اس پر عمل کریں۔در حقیقت بچھڑے ہوؤں کو ملنے، عزیزوں اور پیاروں کو دیکھنے اور خوش ہونے کا جذبہ انسان تو انسان حیوان میں بھی پایا جاتا ہے۔انسان اور حیوان کے جذبات میں فرق ہے مگر یہ جذ بہ حیوانوں میں بھی پایا جاتا ہے۔اگر ایک شخص گھوڑی پر سوار اس کو دوڑائے لئے جارہا ہو اور اس گھوڑی کا بچہ پیچھے رہ جائے تو گھوڑی ہنہناتی ہے اور بچہ اس کو تلاش کرتا ہے۔اور جب وہ دونوں ملتے ہیں تو کس طرح خوشی کی حرکتیں کرتے ہیں۔وہ ایسا نظارہ ہوتا ہے کہ اس کو وہی جان سکتا ہے جس نے اس نظارہ کو دیکھا ہے۔اب جولڑ کے اپنے گھروں کو جانے والے ہیں ان میں بعض کو ماں سے زیادہ محبت ہوگی بعض کو باپ سے۔بعض کو چھوٹے بھائیوں سے محبت ہوگی بعض کو بڑی بہن یا چھوٹی بہن سے۔بعض کو اپنے محلہ کے لڑکوں سے محبت ہوگی۔بعض کو محض