زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 42
زریں ہدایات (برائے طلباء) 42 جلد سوم کوئی مثال کچی ہے تو پھر قرآن جھوٹا ہو جائے گا۔کیونکہ اس آیت کے معنے سوائے اس کے اور تو کوئی ہو ہی نہیں سکتے کہ جھوٹا نبی ہلاک کیا جاتا ہے۔لیکن اگر کوئی ہلاک نہ ہوا تو یہ غلط ہو گئی۔یہ آیت ہم نے اپنی طرف سے نہیں بنائی قرآن کریم نے آنحضرت ﷺ کی صداقت میں پیش کی ہے اس لئے یہ کبھی غلط نہیں ہوسکتی۔پس جو کوئی اس قسم کی مثال پیش کرے اس کو شیخ چلی والی کہانی سنا دو کہ وہ جس شاخ پر بیٹھا تھا اسے ہی کاٹ رہا تھا۔کسی نے کہا ایسا نہ کروگر جاؤ گے۔اس نے کہا جا! بڑا پیغمبر آیا میں نہیں کرسکتا۔لیکن جب گرا تو اس شخص کے پاس دوڑا دوڑا آیا اور کہا تو تو واقعی پیغمبر ہے اب بتا میں کب مروں گا۔اس کہانی پر بہت لوگ ہنستے ہوں گے مگر وہ خود اسی قسم کا فعل کرتے ہیں۔جس قرآن کو سچا اور خدا کا کلام مانتے ہیں اسی کے غلط ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔یہ چند موٹی موٹی باتیں ہیں۔باقی بہت وسیع ہیں اور ان کے لئے لمبے وقت کی ضرورت ہے۔انہیں خوب یا درکھو۔بحث و مباحثہ میں تمہارے کام آئیں گی۔“ 1: هود: 109 2: الجن: 28،27 3: المائدة: 45 (الفضل 21 اگست 1917ء) 4 اليواقيت والجواهر جلد 2 صفحہ 22 مطبوعہ مصر 1351ھ 5 آل عمران: 56 6: المائدة: 117 7: المائدة: 118 8 الحاقة: 4745