زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 41 of 362

زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 41

زریں ہدایات (برائے طلباء) 41 جلد سوم اس نے بھی لال قمیص پہنی ہو اور وہ کہے کہ میں نے بھی اس قسم کی قمیص پہنی ہوئی ہے اور میں بی۔اے نہیں ہوں۔تو وہ کہے کہ یہ علامت صرف میرے لئے ہی ہے اور کسی کے لئے نہیں۔کیا اس کی بات کوئی مان لے گا ؟ اس طرح تو بچے اور جھوٹے میں کوئی امتیاز ہی نہیں رہتا۔لیکن جب یہ دلیل واقعہ میں پائی گئی ہے کہ بچے نبی کی خدا نے حفاظت کی اور کامیابی دی اور جھوٹوں کو ہلاک اور نا کام کیا تو پھر یہ آیت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بھی کھلے طور پر صداقت ثابت کر رہی ہے۔مخالفین نے اس بات کے لئے بڑا ز ور مارا ہے کہ کوئی ایسی مثال پیش کریں کہ کوئی جھوٹا دعویٰ کرنے والا اس قدر عرصہ زندہ رہا ہو لیکن نہیں کر سکے۔بعض کہا کرتے ہیں کہ بہاء اللہ زندہ رہا ہے۔مگر یادر ہے کہ اس نے خدائی کا دعویٰ کیا تھانہ کہ نبوت کا۔اور ہلاک نبوت کا دعویٰ کرنے والا ہوتا ہے نہ کہ خدائی کا کرنے والا۔کوئی کہے کہ خدائی کا دعویٰ تو نبوت کے دعوے سے بھی بہت بڑا ہے اس لئے اس کے مدعی کو تو ضرور ہلاک ہونا چاہئے۔مگر یاد رکھنا چاہئے کہ خدائی کا دعویٰ چونکہ ایک ایسا دعویٰ ہے کہ ہر ایک شخص اس کو جھوٹا سمجھتا ہے اور کوئی عقلمند اس سے دھوکا نہیں کھا سکتا اس لئے اس کے مدعی کو ہلاک کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔مگر ایک سچا نبی بھی چونکہ انسان ہی ہوتا ہے اس لئے جھوٹے نبی سے لوگوں کو دھوکا لگ سکتا ہے اسی لئے اسے ہلاک کر دیا جاتا ہے۔کہتے ہیں ایک شخص نے خدائی کا دعویٰ کیا۔ایک شخص نے آکر اسے گردن سے پکڑ لیا اور یہ کہہ کر کہ تو ہی خدا ہے جس نے میرے ماں باپ کو مارا تھا مارنا شروع کر دیا۔اور اسی طرح اپنے مرے ہوئے رشتہ داروں کے نام لے لے کر مارتا رہا۔آخر اس نے کہہ دیا کہ میں خدائی کے دعوے سے تو بہ کرتا ہوں۔تو خدائی کا دعویٰ فورا باطل ہو جاتا ہے اور اس سے لوگوں کے دھوکا کھانے کا اتنا خطرہ نہیں ہوتا جتنا نبوت کا دعوی کرنے والے سے ہو سکتا ہے۔اس لئے اس کے لئے یہ سزا رکھی گئی ہے کہ اسے ہلاک کر دیا جاتا ہے غیر احمدی اور کئی مثالیں پیش کرتے ہیں لیکن سب غلط اور جھوٹی۔ان کو کہنا چاہئے کہ اگر