زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 38
زریں ہدایات (برائے طلباء) میں اختلاف ہے۔38 جلد سوم ایک اور بہت بڑا اختلاف حضرت مسیح کی وفات کے متعلق ہے اس کے متعلق بھی کچھ بتا دیتا ہوں۔يُعِيسَى اِنّى مُتَوَفِّيكَ 5 میں خدا تعالیٰ نے حضرت عیسی سے وعدہ فرمایا ہے کہ ہم تجھے وفات دیں گے اور سورۃ مائدہ میں ان کی اپنی زبان سے وفات پانے کا اقرار کرایا ہے۔بعض لوگ غلطی سے توفی کے معنی موت کے کرتے ہیں مگر یہ درست نہیں۔اس کے معنی قبض روح کے ہیں۔جہاں بھی قرآن کریم میں یہ لفظ آئے خدا اس کا فاعل اور ذی روح مفعول ہو تو اس کے معنی قبض روح ہی کے ہوتے ہیں۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے ہم نے عیسی سے پوچھا تو انتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُونِى وَأُتِيَ الهَيْنِ مِنْ دُونِ اللهِ 6 کیا تو نے لوگوں کو کہا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو معبود بنالو اللہ کے سوا؟ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے آگے سے اس نے جواب دیا کی مَا قُلْتُ لَهُمْ إِلَّا مَا أَمَرْتَنِي بِ أَنِ اعْبُدُوا اللهَ رَبِّي وَرَبَّكُمْ وَكُنتُ | عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَّا دُمْتُ فِيْهِمْ ۚ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي كُنْتَ أنتَ الرَّقِيب عَلَيْهِمْ 7 کہ میں نے نہیں ان کو کہا مگر وہی جس کا مجھے حکم دیا گیا تھا کہ عبادت کرو اللہ کی جو میرا رب ہے اور تمہارا بھی اور میں ان پر نگران تھا جب تک ان میں رہا۔پس جب تو نے میری روح قبض کرلی تو پھر تو ہی ان پر نگران تھا۔اس خواب میں حضرت عیسی نے خدا تعالیٰ کے حضور یہ کہا ہے کہ جب تک میں ان میں رہا انہوں نے مجھے اور میری ماں کو معبود نہیں بنایا۔لیکن جب تو نے میری روح قبض کر لی تو پھر تو ہی نگران تھا۔سیر آیت وفات مسیح کے متعلق بطور اصل کے ہے۔جب کسی سے گفتگو ہو تو اس کو پیش کرنا اور اس سے ادھر اُدھر نہ جانے دینا چاہئے۔کیونکہ یہ نہایت صاف اور واضح ہے۔حضرت عیسی خدا تعالیٰ کے حضور اقرار کرتے ہیں کہ جب تک میں ان میں رہا ان کی نگرانی کرتا رہا اُس وقت وہ نہیں بگڑے تھے لیکن جب تو نے میری روح قبض کرلی اور میں ان میں نہ رہا تو تو ہی ان کا نگران تھا۔اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ روح قبض کرنے سے مراد موت ہی ہے۔