زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 34 of 362

زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 34

زریں ہدایات (برائے طلباء) 34 جلد سوم یہ تو چھٹیوں کے متعلق بات تھی اب میں کچھ اور بھی بتانا چاہتا ہوں۔وہ دن جو طالبعلم اپنے گھروں میں گزاریں گے وہ ان کے لئے امتحان اور آزمائش کے دن ہوں گے۔یہاں وہ نمازیں پڑھا کرتے تھے ان کے متعلق پتہ لگے گا کہ سپرنٹنڈنٹ کے لئے پڑھتے تھے یا خدا کے لئے۔اگر یہاں سپرنٹنڈنٹ یا ٹیوٹروں کے ڈر سے پڑھا کرتے تھے تو گھر جا کر چھوڑ دیں گے اور اگر خدا کے لئے پڑھتے تھے تو پڑھتے رہیں گے۔بہت لڑکے ہوتے ہیں جو صرف ٹیوٹروں کے لئے نماز پڑھتے ہیں۔علی گڑھ کے متعلق ایک دوست نے سنایا کہ وہاں صبح اور عشاء کے وقت نماز کی حاضری لی جاتی ہے۔بہت سے لڑکے اور وقتوں میں تو نماز کے لئے نہ آتے تھے مگر ان دونوں وقتوں میں آکر حاضری لگوا لیتے تھے۔جب وقار الملک سیکریٹری ہوئے تو انھوں نے کہا کہ پانچوں وقت نماز کی حاضری لی جایا کرے۔اس پر لڑکوں نے بہت شور مچایا کہ یہ ہم پر بہت بڑا ظلم کیا گیا ہے۔سرسید کے وقت سے اب تک ایسا نہیں ہوا تو اب کیوں کیا جاتا ہے۔انھوں نے پہلے تو کہا کہ جولڑ کے نماز پڑھتے ہیں انہیں دو وقت یا پانچ وقت حاضری لینے سے کیا ڈر ہے۔لیکن جب لڑکوں نے بہت اصرار کیا تو کہا کہ سرسید کو کوئی ایسی حدیث مل گئی ہوگی جس میں دو وقت نماز پڑھنے کا حکم ہوگا۔مجھے تو پانچ ہی وقت نماز پڑھنے کا پتہ ملتا ہے اس لئے میں تو پانچ وقت ہی حاضری لیا کروں گا۔تو بہت لڑکے ہوتے ہیں جو منتظمین کی نماز پڑھتے ہیں اور گھر پر جا کر چھوڑ دیتے ہیں جہاں انہیں کوئی کہنے والا بھی نہیں ہوتا۔کیونکہ آجکل حالت یہ ہے کہ مرد عورتیں بہت کم نماز پڑھتے ہیں۔لڑکا اگر بغیر نماز پڑھے سو جائے اور والد جگانے بھی لگے تو والدہ کہتی ہے نہ جگانا کچی نیند ہے دونوں نمازیں ملا کر پڑھ لے گا۔لیکن جو ایک نہیں پڑھتا اس نے دو ملا کر کیا پڑھنی ہیں۔بعض گھروں میں ماں باپ اس طرف توجہ ہی نہیں کرتے۔اس لئے لڑکوں کے لئے یہ آزادی کا زمانہ ہوتا ہے اور اس میں پتہ لگ سکتا ہے کہ کون خدا کے لئے نماز پڑھتا تھا۔تو گو یہ تمہارے لئے چھٹی کے ایام ہوں گے مگر دراصل ان میں تمہارا امتحان ہو رہا ہوگا۔تیسری بات یہ ہے کہ کچھ ایسے مسائل ہیں جن کے متعلق احمد یوں اور غیر احمدیوں میں