زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 33
زریں ہدایات (برائے طلباء) 33 جلد سوم پہلے سے ہی چلنے کی تیاری شروع کر دیتے ہیں۔بلکہ بعض تو پہلے ہی چلے جاتے ہیں۔تو اس چھٹی | کی اس قدر خوشی ہوتی ہے حالانکہ یہ خوشی دوڈیڑھ ماہ بعد ملیا میٹ ہو جانے والی ہوتی ہے۔پھر اس چھٹی اور مرنے کے بعد کی چھٹی میں ایک اور بہت بڑا فرق ہے اور وہ یہ کہ جس کا باپ زندہ ہو وہ اس کو اور جس کی ماں زندہ ہو اس کو ملتا ہے پھر جس کی بھائی بہنیں دادی نانی ہے یا اور رشتہ دار جو زندہ ہوں ان کو ملتا ہے۔لیکن اس کے بیسیوں رشتہ دار ایسے بھی ہوتے ہیں کہ دوماہ کیا اگر سال بھر کی بھی چھٹی دی جائے تو بھی نہیں مل سکتا۔کیونکہ وہ اس جہان میں موجود ہی نہیں ہوتے لیکن مرنے کے بعد جو چھٹی ہوتی ہے وہ اول تو ایسی ہے کہ جسے چند ماہ کیا چند ارب سال کی بھی نہیں کہہ سکتے۔اس کی کوئی حد ہی نہیں مقرر کر سکتے۔دوسرے اس کے ساتھ رنج نہیں۔اور تیسرے یہ کہ اس میں آدم تک کے باپ دادوں اور رشتہ داروں سے ملاقات ہو جائے گی۔پھر اس دنیا میں تو جو زندہ رشتہ دار ہوتے ہیں ان میں سے بھی کوئی کہیں اور کوئی کہیں ہوتا ہے اس لئے سب سے ملاقات نہیں ہوسکتی۔مگر وہاں کوئی رشتہ دار ہو اور خواہ کسی زمانہ کا ہول سکے گا۔لیکن جس طرح یہ چھٹی محنت کے بعد حاصل ہوتی ہے اسی طرح وہ بھی محنت اور مشقت چاہتی ہے اور جس طرح اس سے وہی لڑکا لطف اٹھا سکتا ہے جو محنتی ہو نہ کہ ست کیونکہ اسے تو پہلے بھی چھٹی ہوتی ہے اسے ان چھٹیوں سے کوئی لطف نہیں آتا۔ایک ایسے شخص کے سامنے جس کا پیٹ ناک تک بھرا ہوا چھا کھانا رکھ دیا جائے تو اسے ایسی لذت محسوس نہیں ہوگی جیسی کہ ایک بھوکے کو۔دیکھو روزہ کھولنے کے بعد پانی کا جو مزا آتا ہے وہ آجکل نہیں آتا تو محنت کے بعد آرام کا مزا آیا کرتا ہے۔اس لئے چھٹی اس لڑکے کے لئے حقیقی خوشی کا باعث ہوتی ہے جو محنتی ہوتا ہے۔اسی طرح اس دائمی چھٹی کی لذت بھی وہی حاصل کرے گا جو دنیا میں اس کے لئے محنت کرے گا۔پس یہ چھٹی تمہیں اس چھٹی کی طرف متوجہ کرتی ہے جو تعلیم کے بعد ہوگی اور وہ چھٹی اس کی آنے والی چھٹی کی طرف اشارہ کرتی ہے جو موت کے بعد ہوگی۔اس لئے تمہیں اسے بھی مد نظر رکھنا چاہئے اور میں نے بتایا ہے کہ وہ بہت اعلیٰ درجہ کی چھٹی ہے۔