زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 335 of 362

زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 335

زریں ہدایات (برائے طلباء) 335 جلد سوم احمد یہ گرلز ہائی سکول قادیان میں ایف اے کلاس کا افتتاح یکم جولائی 1931ء کو احمدیہ گرلز ہائی سکول قادیان میں ایف اے کلاس کے افتتاح کے موقع پر حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے تشہد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حسب ذیل خطاب فرمایا:۔"1925ء میں میں نے اس نیت سے کہ عورتوں کی تعلیم ایسے اصول پر ہو کہ دنیوی تعلیم کے ساتھ ساتھ مذہبی تعلیم کی بھی تکمیل ہو سکے اور اس خیال سے کہ مذہبی تعلیم اپنے ساتھ دلچسپی اور دلکشی کے زیادہ سامان نہیں رکھتی اور بعد میں اس کا حاصل کرنا مشکل ہوتا ہے مذہبی تعلیم کو پہلے رکھا تا کہ ایک حد تک دینی تعلیم حاصل کرنے کے بعد لڑکیاں انگریزی تعلیم حاصل کر سکیں۔اور چونکہ اس سے زیادہ دلچسپی ہوتی ہے اس لئے یہ بڑی عمر میں بھی اگر حاصل کرنی پڑے تو گراں نہ گزرے گی۔لڑکیوں کے لئے پہلے عربی کی کلاسیں کھولیں۔اُس وقت قادیان میں بھی ایسے لوگ تھے جو اس پر معترض تھے اور باہر بھی۔خاص کر پیغامی سیکشن نے بہت ہنسی اڑائی۔لیکن اللہ تعالٰی کے فضل سے پنجاب میں ہی نہیں بلکہ ہندوستان میں یہ پہلی مثال ہے کہ اس کثرت سے مولوی کا امتحان ہماری جماعت کی لڑکیوں نے پاس کیا۔میرا خیال ہے سارے ہندوستان میں اتنے عرصہ میں مولوی کا امتحان پاس کرنے والی اتنی لڑکیاں نہ ہوں گی جتنی ایک سال میں ہماری لڑکیوں نے یہ امتحان پاس کیا۔اس کے بعد زنانہ سکول کی لڑکیاں چونکہ ہائی کلاسوں کی تعلیم پاسکتی تھیں اس لئے مدرسہ ہائی کے استادوں کی امداد سے ہائی کلاسیں کھولی گئیں۔ان میں بھی خدا کے فضل سے اچھی کامیابی ہوئی۔اور اس سال سات طالبات انٹرنس کے امتحان میں کامیاب ہوئیں۔یہ بھی اپنی ذات میں پہلی مثال ہے۔کیونکہ کسی سکول سے سات مسلمان