زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 29 of 362

زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 29

زریں ہدایات (برائے طلباء) 29 29 طلباء کو نصائح طلباء تعلیم الاسلام ہائی سکول اور مدرسہ احمدیہ قادیان کو موسمی تعطیلات ہوئیں تو انتظامیہ مدرسہ کی درخواست پر حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے یکم اگست 1917ء کو بعد نماز مغرب طلباء کو نصائح فرمائیں۔تشہد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔رخصت اور چھٹی ایک ایسا لفظ ہے جو شاید آج ہر طالب علم کی زبان پر چڑھا ہوگا۔چھٹی کے معنی کہ چھٹکارا ہو گیا۔کام کرنے سے چھوٹ گئے۔رخصت کے بھی یہی معنی ہیں کہ کام چھوڑ کر جانے کی اجازت مل گئی۔تو رخصت اور چھٹی ایک ہی بات ہے۔مگر یہ دونوں لفظ طلباء کی زبان پر بہت جاری ہوتے اور وہ چھٹی لینے کے بہت شائق ہوتے ہیں۔ذرا کوئی تقریب ہو ہیڈ ماسٹر کے پیچھے پڑ جاتے ہیں۔ایک دوڑا آتا ہے کہ آج تو ضرور چھٹی دی جائے ، دوسرا آتا ہے کہ آج چھٹی کا ہونا بہت ضروری ہے۔اسی طرح ایک دوسرے کی اس قدر تائید کرتے ہیں کہ بے چارے ہیڈ ماسٹ کو چھٹی دینا ہی پڑتی ہے کیونکہ انسان کی عادت ہے کہ جو بات بار بار اس کے سامنے پیش کی جائے اس کا اس پر اثر ہو جاتا ہے۔تو چھٹی اور رخصت کا لفظ طلباء کے لئے بہت پسندیدہ لفظ ہے لیکن بہت کم طلباء ہوں گے جنہوں نے اس لفظ کی حقیقت پر غور کیا ہوگا۔چھٹی کے معنی ہیں چھوٹ گئے۔اور رخصت کے معنی ہیں اجازت مل گئی۔مگر سوال پیدا ہوتا ہے کہ کس چیز سے چھوٹ گئے ؟ کیا علم پڑھنے سے چھوٹ گئے ؟ طلباء مدرسوں میں کیا کرتے ہیں؟ یہی کہ علم پڑھتے ہیں۔لیکن ان کو چھٹی ملنے کا یہ منشاء تو نہیں ہوسکتا کہ چونکہ وہ علم پڑھنے سے چھوٹ جاتے ہیں اس لئے خوش ہوتے ہیں۔تو انہیں پڑھنے پر کون مجبور کر سکتا ہے۔پھر ان کے ماں باپ بھی تو خوش ہوتے ہیں کہ ان کو چھٹی ملی۔کیا وہ ان کے تعلیم سے چھوٹ جانے کی وجہ سے جلد سوم