زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 328 of 362

زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 328

زریں ہدایات (برائے طلباء) 328 جلد سوم طلبا تعلیم الاسلام ہائی سکول قادیان سے خطاب 20 مارچ 1931ء کو طلبا تعلیم الاسلام ہائی سکول قادیان کلاس دہم نے ایک جلسہ کا انعقاد کیا اور حضرت خلیفہ مسیح الثانی کی خدمت میں ایڈریس پیش کیا۔اس موقع پر حضور نے تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حسب ذیل خطاب فرمایا:۔جیسا کہ میرے عزیزوں نے اپنے ایڈریس میں بیان کیا ہے میں اس دفعہ بیماری کی وجہ سے اُس وقت جبکہ ففتھ ہائی کے طلباء کا امتحان قریب تھا اور جن ایام میں عادتا میں یہاں سے جانے والے بچوں کو بعض نصیحتیں کیا کرتا ہوں باہر گیا ہوا تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے ایسا سامان کر دیا کہ اب کے امتحان کا سنٹر یہاں مقرر ہو گیا۔اس لئے باوجود اس کے کہ امتحان سے پہلے مجھے طلباء کو نصائح کرنے کی فرصت نہ تھی اب اس بات کا موقع مل گیا کہ انہیں کچھ نصائح کروں۔ب سے پہلے تو میں ان کے ایڈریس کے متعلق ایک نصیحت کرنی چاہتا ہوں۔اور وہ یہ کہ انسان کے احساسات اور خیالات اس کے اعمال پر بہت کچھ اثر انداز ہوتے ہیں۔انسان جس قسم کی نیت اور خواہش رکھتا ہے اگر وہ کچی اور سنجیدگی سے اس کے دل میں قائم ہوئی ہو تو آئندہ اعمال اس کے مطابق بدلتے جاتے ہیں۔ایڈریس میں ہمارے طلباء نے باہر سے آنے والے طلباء کے متعلق اپنی مہمان نوازی اور خاطر داری کی کوششوں کا ذکر کیا ہے۔میں چونکہ باہر کم نکلتا ہوں اور ان باتوں کے علاوہ جن کی میں ضرورت سمجھتا ہوں دوسری باتیں کم کرنے کا موقع ملتا ہے اس لئے میں نہیں کہہ سکتا کہ واقعہ میں انہوں نے اسی رنگ میں مہمان نوازی کی ہے یا نہیں جس کی اسلام میں تاکید ہے اور جو ایک مسلم کی شان کے شایان ہے۔لیکن اس بارے میں جو بات انہوں نے کہی ہے اسے درست تسلیم کرتے ہوئے بھی میں کہنا چاہتا ہوں کہ ایک فقرہ