زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 322 of 362

زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 322

زریں ہدایات (برائے طلباء) 322 جلد سوم مجلس میں بولنے کے لئے کہا جائے۔انگریزوں میں بھی عام طور پر یہی طریق ہے کہ ابتدا میں تقریر میں حفظ کرا دی جاتی ہیں۔پس یہ کوئی نقص نہیں بلکہ ابتدائی مراحل طے کرنے کے لئے ضروری ہے۔ہماری جماعت میں چونکہ خدا کے فضل سے اچھے اچھے لیکچرار ہیں اور بعض فطرت سے اچھی قابلیت لے کر آتے ہیں اس لئے یہ غلط خیال پیدا ہو گیا ہے کہ ہر لڑکا اچھی تقریر کر سکتا ہے۔حالانکہ بعض فطرت سے قابلیت لے کر آتے ہیں اور بعض سکھانے سے قابل بنتے ہیں۔پس یہ خیال اپنے دلوں سے نکال دینا چاہئے کہ ہر طالب علم میں یہ قابلیت ہوتی ہے کہ وہ زبان کا ماسٹر بن سکے۔جن لڑکوں میں ایسی قابلیت نہ ہوا نہیں مجلس میں تقریر کرنے کی اجازت نہیں دینی چاہئے۔یہ علیحدہ بات ہے کہ وہ اپنی مجلسوں میں تقریریں کریں۔مگر جب دوسرے لوگ بلائے جائیں تو ان کے سامنے ایسے لڑکوں کو ہی کھڑا کرنا چاہئے جن کے متعلق لوگ اچھا اثر لے کر جائیں۔مثلاً ابھی ایک طالب علم نے یہ بات کہی جو مجھے بہت پسند آئی کہ ہماری جماعت میں نیکیاں بہت ہیں مگر چونکہ سفید کپڑے پر معمولی سا سیاہ داغ بھی بد نما معلوم ہوتا ہے اس لئے لوگوں کی نظر میں ہماری جماعت کے کسی شخص کی کمزوری بہت کھنکتی ہے۔یہ بات نہایت معقول اور اس سپرٹ کے عین مطابق ہے جو میں اپنی جماعت میں پیدا کرنا چاہتا ہوں۔پس طالب علموں کو تقریریں رنا دی جائیں تا وہ خوب اچھی طرح یاد کر کے مجلس میں سنائیں اور اس طرح طبائع پر اچھا اثر پیدا ہو۔پھر اس طالب علم کو آئندہ کے لئے یہ احساس پیدا ہو جائے گا کہ اب اگر چہ میں نے کسی دوسرے کا مضمون پڑھا ہے لیکن اگر آئندہ میں اپنی قابلیت کے اس معیار کو قائم نہ رکھ سکا تو لوگوں میں شرمندگی اٹھانی پڑے گی اور وہ کہیں گے کہ یہ ہمیشہ دوسروں سے مضامین لکھوا کر پڑھ دیتا ہے۔پس یہ خیال بھی اسے ترقی کی طرف بڑھانے میں محمد ہو گا۔ہمارا زنانہ رسالہ مصباح ہے۔اس میں بعض مرد ہیں جو عورتوں کی طرف سے مضمون لکھ دیتے ہیں اور صاف معلوم ہو جاتا ہے کہ یہ کوئی مرد ہے جو عورتوں کے لباس میں بول رہا ہے۔مگر کچھ بھی ہو اس طریق پر بھی ہمت بڑھتی ہے۔پس استاد بھی اگر اسی طرح