زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 318
زریں ہدایات (برائے طلباء) 318 جلد سوم کتابیں پڑھنے سے یوں معلوم ہوتا ہے کہ اردو نثر کو صحیح بنیادوں پر آپ ہی نے قائم کیا ہے۔پہلے اردو اس طرح لکھی جاتی تھی جیسے قصے ہوتے ہیں۔یعنی عبارت کا وزن ملا کر لکھنے کا طریق تھا۔مثلاً اس طرح لکھتے تھے جس وقت میرے حبیب کا میری زبان پر نام آیا فوراً محبت کی طرف سے مجھے پیام آیا۔تو پہلے اسی قسم کی نظم نمانثر لکھا کرتے تھے۔اور اس طرح اس نثر میں وہ زور اور وہ طاقت نہیں رہتی تھی جس کا مطالب کی ادائیگی کے لئے پایا جانا ضروری ہوتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہی وہ پہلے شخص تھے جنہوں نے اردو نثر کی بنیاد رکھی۔حتی کہ سرسید جو بڑے ادیب سمجھتے جاتے تھے ان کی نثر بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نثر کے مقابلہ میں بڑی پیچیدہ نظر آتی ہے۔یہ باتیں بتاتی ہیں کہ خدا تعالیٰ کا منشاء ہے کہ جو قوم تبلیغ کے لئے نکلے اُس کی زبان صاف اور شستہ ہو۔آخر قرآن کی زبان خدا نے اتنی اعلیٰ کیوں رکھی ہے۔اگر زبان کوئی اثر کرنے والی چیز نہیں ہے اور صرف یہ مقصد ہوتا کہ مضمون بیان ہو جائے خواہ طرز بیان کتنا ہی خراب ہو تو قرآن کی زبان ایسی اعلیٰ نہ ہوتی۔مگر قرآن کی زبان جیسی میٹھی اور فصیح و بلیغ ہے اسے دیکھتے ہوئے یہی معلوم کہ اور صحیح ہوں۔ہوتا ہے کہ خدا کا منشاء ہے کہ مسلمانوں کی زبانیں نہایت عمدہ اور فصیح ہوں۔آج سوائے سیکرٹری کی رپورٹ کے جو نہایت قابلیت سے لکھی گئی ہے اور جس میں انسانی دماغ کی کیفیات کو مد نظر رکھا گیا ہے مثلاً یہ کہ تبلیغ کے لئے جانے والوں نے اتنے سو میل سفر کیا اور اگر افراد کے لحاظ سے مسافت کا اندازہ لگایا جائے تو اتنے ہزار میل سفر ہوتا ہے اور کوئی تقریر ایسی نہ تھی جس کی تعریف کی جا سکے۔سیکرٹری کی رپورٹ میں یہ بات مدنظر رکھی گئی تھی کہ اس کا سننے والوں پر اثر ہو۔پس آج اگر میں تعریف کر سکتا ہوں تو سیکر ٹری کی۔اگر چہ لہجہ اس کا بھی خراب تھا مگر رپورٹ کا مضمون اس کی عمر کے لحاظ سے بہت اچھا تھا اور اس وجہ سے اس کی غلطیوں پر بھی پردہ پڑ جاتا ہے۔قرآن کریم کی تلاوت جس بچہ نے کی اس نے بہت ہی عمدہ کی۔عمر کے لحاظ سے اس میں بہت زیادہ تر نم تھا اور جسم کے لحاظ سے اس میں بہت زیادہ طاقت تھی۔اگر استاد