زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 315 of 362

زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 315

زریں ہدایات (برائے طلباء) 315 جلد سوم احمدی طلباء اور زبان دانی 28 فروری 1931 ء کو طلباء مدرسہ احمدیہ قادیان کی تبلیغی انجمن کے سالانہ جلسہ میں حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے حسب ذیل تقریر فرمائی۔تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔میں بوجہ سینہ کے درد اور بخار کی حرارت کے زیادہ بول نہیں سکتا مگر میں منتظمین جلسہ سے کہوں گا کہ اس معاملہ کے متعلق بار بار توجہ دلانے کے باوجود مدرسہ کے ذمہ دار افسروں کو اصلاح کا خیال پیدا نہیں ہوا اور ابھی تک انہوں نے یہ کوشش نہیں کی کہ وہ طالب علم جو تقریر کرنے کے لئے کھڑے ہوں ایسے ہونے چاہئیں جو کم از کم اپنی زبان صحیح طور پر جاننے والے ہوں۔میں قطعی طور پر یہ خیال نہیں کر سکتا کہ ایک انگریز طالب علم جو چھٹی یا ساتویں جماعت میں پڑھتا ہو جب تقریر کرنے کے لئے کھڑا ہو تو انگریزی زبان کے معمولی الفاظ بھی غلط کہنے لگے پھر میں کس طرح سمجھ لوں ہمارے طلباء اپنی مادری زبان کے الفاظ بھی صحیح طور پر ادا نہ کر سکیں۔غلطی ہر شخص کر سکتا ہے۔شیکسپیئر بھی جسے زبان دانی کے لحاظ سے پیغمبری کا درجہ دیا جاتا ہے اس کی بھی لوگوں نے کئی غلطیاں نکالی ہیں مگر ہر چیز کی ایک حد ہوتی ہے اور جب وہ اپنی حد سے باہر ہو جائے تو نہایت بد نما نقص ہوتا ہے۔تبلیغ میں سب سے مقدم چیز یہ ہے کہ ہم صحیح طور پر اپنا مافی الضمیر ادا کر سکیں۔اور تبلیغ میں بڑی مشکل یہی ہو سکتی ہے کہ انسان اپنے مافی الضمیر کو اچھی طرح ادا نہ کر سکے۔اور یقینا اگر ہم اپنے ملک کی زبان بھی صحیح طور پر نہیں بول سکتے اور اس کے الفاظ کی لغت جاننا تو الگ رہا ان کا تلفظ بھی صحیح ادا نہیں کر سکتے تو دوسرے لوگ اس بات کا خیال کرتے بالکل