زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 27 of 362

زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 27

زریں ہدایات (برائے طلباء) 27 جلد سوم اشاعت ہے اس کے لئے آج ہی سے ارادہ کر لینا چاہئے کہ ہم تعلیم سے فارغ ہو کر مفتی صاحب کی طرح ہی کریں گے انشاء اللہ تعالی۔میں نے ابھی بتایا ہے کہ یورپ اور دیگر ممالک میں انگریزی خوان ہی تبلیغ کر سکتے ہیں لیکن ساتھ ہی میں یہ بھی بتانا چاہتا ہوں کہ صرف انگریزی کام نہیں دے سکتی جب تک کہ دینی علوم | سے بھی آگا ہی نہ ہو۔موجودہ مدرسہ احمدیہ تو ایسا ہے کہ فی الحال اس سے تمام ہندوستان میں تبلیغ کرنے کے لئے بھی مبلغ نہیں نکل سکتے اس لئے اس کی صورت یہ ہے کہ وہ لوگ جو کالجوں اور سکولوں میں پڑھتے ہیں وہ اپنی پڑھائی ختم کر کے کچھ مدت دینی علوم کے حاصل کرنے میں لگائیں لیکن ابھی تو یہاں تک کمزوری پائی جاتی ہے کہ اگر کوئی لڑکا مڈل تک پہنچ جائے اور اسے مدرسہ احمدیہ میں داخل کیا جائے تو کہتا ہے کہ میں تو مڈل تک پڑھ چکا ہوں اب میں پیچھے نہیں جاسکتا۔گویا دینی علوم حاصل کرنا پیچھے جانا ہے اسی وجہ سے میں نے مدرسہ احمدیہ میں داخل ہونے والے طلباء کے لئے رکھا تھا کہ تیسری جماعت کے بعد داخل کر دیا جائے تانہ ایک موہوم نظارہ انہیں دکھائی دے اور نہ انہیں دینی تعلیم حاصل کرنے پر مشکل پیش آئے۔مگر کیا ہمیشہ اسی طرح کیا جائے گا ؟ اس طرح کرنے سے تو کام نہیں چلا کرتے۔کام اُس وقت ہوگا جبکہ دنیاوی تعلیم حاصل کرنے کے بعد نوجوان خود بخود دین کی طرف آئیں۔اس میں شک نہیں کہ بعض نے اپنی زندگی کو وقف کر دیا ہے وہ تو تمام دنیا کے لئے کافی نہیں ہیں اس لئے ہر ایک انگریزی خواں کو اس کے لئے اپنے آپ کو تیار کرنا چاہئے۔کس قدر افسوس کا مقام ہے کہ یہاں سکول میں استادوں کے مہیا کرنے میں مشکل ہوتی ہے چونکہ انہیں دوسری جگہ کچھ زیادہ تنخواہ ملتی ہے اس لئے یہاں نہیں آسکتے۔دیکھولالہ ہنسراج جس نے دیا نند کالج کو ادنی حالت سے بڑھا کر نہایت عالی شان اور مشہور کالج بنا دیا وہ صرف 75 روپیہ تنخواہ لیتا تھا۔اسی طرح اور بھی کئی ایک پروفیسر صرف پچاس پچاس روپے تنخواہ پاتے ہیں لیکن یہاں آنے کے لئے اسی اور پچاسی کا فرق روک بن جاتا ہے۔اس بات کو خوب یا در کھو کہ جب تک دین کے لئے قربانی اور ایثار کی روح تم میں پیدا نہ ہوگی اُس وقت تک تمہیں کوئی