زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 312 of 362

زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 312

زریں ہدایات (برائے طلباء) 312 جلد سوم طلباء کو نصائح 11 مارچ 1930ء کو طلباء تعلیم الاسلام ہائی سکول قادیان نے ففتھ کلاس ہائی کے طلباء کو الوداع کہنے کے لئے ایک جلسہ کا انعقاد کیا جس میں حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے تشہد ، تعوذ او رسورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حسب ذیل تقریر فرمائی:۔مجھے اس بات کی خوشی ہوئی ہے کہ مدرسہ بائی کے طالب علموں نے متواتر قرآن کریم کی تلاوت میں ایک اچھا نمونہ پیش کیا ہے۔اور میں سمجھتا ہوں نہ صرف یہ کہ دوسرے انگریزی پڑھنے والے طالب علم اس سے سبق حاصل کر سکتے ہیں بلکہ میرے نزدیک تلاوت میں ایسی غلطیوں سے قطع نظر کرتے ہوئے جن کے دور کرنے کا انہیں موقع حاصل نہیں مدرسہ احمدیہ کے طلباء کے لئے بھی یہ مثال ہے۔اور جب میں یہ کہتا ہوں کہ مدرسہ احمدیہ کے طلباء کے لئے مدرسہ ہائی کے طلباء کی تلاوت بطور مثال ہے تو یہ کوئی معمولی تعریف نہیں کیونکہ مدرسہ احمدیہ میں پڑھنے والوں کو دین کی خدمت اور قرآن کریم کی تعلیم کی اشاعت کے لئے تیار کیا جارہا ہے۔باوجود اس کے اگر وہ قرآن کی تلاوت صحیح طور پر نہ کر سکیں اور باوجود اس کے ایسی حلاوت نہ پیدا نہ اور یہ کرسکیں جو قلوب پر اثر کرنے کے علاوہ مخفی جذبات کو ابھارے تو ان کے مقابلہ میں دوسرے طلباء جو یہ صفت پیدا کریں تعریف کے قابل ہیں۔اس کے بعد میں ایڈریس کے نفس مضمون کے متعلق کچھ زیادہ نہیں کہنا چاہتا۔اس میں عام دستور کے مطابق افسوس کا اظہار کیا گیا اور اس کے جواب میں جو کچھ کہا گیا وہ شکر یہ اور امتنان تھا۔لیکن اتنا میں جانتا ہوں کہ جن جذبات کا اظہار اس میں کیا گیا ہے اور جس طرح اس اظہار کو قبول کیا گیا ہے اگر ان الفاظ کے نیچے وہی روح ہے جو ظاہرہ طور پر نظر آئی ہے تو ہمارے لئے