زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 313 of 362

زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 313

زریں ہدایات (برائے طلباء) 313 جلد سوم کوئی زیادہ فکر کرنے کی بات نہیں۔اگر بچے طور پر ہمارے طالب علم محسوس کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنی زندگیاں ایک خاص مقصد کے لئے وقف کی ہوئی ہیں اور ان کا باطن ان کے ظاہر کو جھٹلاتا نہیں اور اگر ان کے الفاظ ان کی قلبی کیفیات کی ترجمانی کر رہے ہیں تو یہ ہمارے لئے بہت خوشی کی بات ہے۔کیونکہ کسی چیز کا احساس ہی ہوتا ہے جو اپنے لئے صحیح طریق عمل اختیار کرنے میں مدد دیتا ہے۔ہماری عادتیں ، ہمارا ماحول، ہماری مجبوریاں ایک طرف ہوں لیکن قلبی احساسات ایک طرف تو وہ ایسی طاقت رکھتے ہیں کہ کبھی نہ کبھی اپنے لئے رستہ نکال ہی لیتے ہیں۔ایک موتی کو خواہ کتنی ہی مٹی کے اندر دفن کر دو اس سے اس کے اصلی جو ہر میں کوئی نقص نہ پیدا ہوگا بلکہ حقیقی خوبی کے لحاظ سے میں یہ کہوں گا کہ اگر اسے پیس ڈالو، جلا دو پھر بھی وہ اپنی خوبیاں اور تاثیرات اپنے ساتھ رکھے گا۔اس میں شبہ نہیں کہ اس کی بعض خوبیاں جاتی رہیں گی مگر اس کی اصلیت جدا نہیں ہوگی۔انسان کے احساسات بھی حقیقت رکھتے ہیں۔ان پر خواہ ہزاروں عادات کے پردے ڈال دیں، واقعات کی مسلسل آندھیاں اور تاریکیاں انہیں چھپا دیں وہ حقیقت نہیں کھوتے۔بلکہ تاثیر بھی نہیں کھوتے ، باہر نکلنے کی کوشش نہیں چھوڑتے اور ایک نہ ایک وقت نکل ہی آتے ہیں۔حتی کہ اگر پہلے انہیں نکلنے کا موقع نہ ملے تو موت کے وقت ہی موقع مل جاتا ہے۔چنانچہ بڑے بڑے دہریہ جن کی زندگیاں خدا تعالیٰ کے خلاف صرف ہو جاتی ہیں مرنے کے وقت یہ کہنے پر مجبور ہوتے ہیں کہ ہمارا دل ندامت سے لبریز ہے اور ہمیں اپنے عقیدہ کے متعلق شبہات ہیں۔اُس وقت انہیں خدا تعالیٰ کی ہستی کے متعلق کوئی نئے دلائل نہیں سوجھتے۔بلکہ بات یہ ہوتی ہے کہ ان کا عمل جو غیر طبعی تھا جب ساکن ہونے لگتا ہے تو یکدم قدیمی احساسات جو پیدائش سے ان میں رکھے گئے تھے ابھر نے لگتے ہیں۔اور انہیں بتا دیتے ہیں کہ اُس وقت جب تم دوسروں کے دلوں سے ان خیالات کو مٹانے کی لاکھوں کوششیں کر رہے تھے اُس وقت ہم خود تمہارے دل میں بیٹھے تھے۔تم نے ہم پر لاکھوں من مٹی ڈال دی اور بہت نیچے دبا دیا مگر ہم زندہ تھے اور اس بات کے منتظر تھے کہ موقع ملے تو نکل آئیں۔آج جبکہ تمہارے اعمال بند ہو رہے ہیں ہمارے قید خانہ کے دروازے کھل گئے اور ہم باہر نکلنے کے لئے