زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 309 of 362

زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 309

زریں ہدایات (برائے طلباء) 309 جلد سوم ہمیشہ الٹ ہی کیا کرتی تھی اس لئے ضرور اوپر کی طرف ہی گئی ہوگی۔تو شاید طالب علموں میں بھی ایسی روح ہوتی ہے کہ جس کام کے متعلق کہا جائے نہ کروا سے وہ ضرور کرنا چاہتے ہیں اور جس کے کرنے کے لئے کہا جائے اسے نہیں کرتے۔لیکن میں امید کرتا ہوں کہ ہمارے بچوں میں یہ روح یقینا نہیں ہوگی اور ان کے اندر مسلمانوں والی سیدھی سادھی روح ہوگی۔اس لئے انہیں کچھ نہ کچھ وقت تبلیغ کے لئے بھی ضرور نکالنا چاہئے۔میں نے لاہور میں بھی طلباء کو جب یہی نصیحت کی تھی تو بعض نے کہا تھا کہ لوگ ہماری سنتے نہیں۔میں نے جس طرح یہ کہا ہے کہ علم اس طرح سیکھو کہ وہ تمہارے جسم کے ہر حصہ میں جذب ہو اور ہر سکون و حرکت سے اس کا اظہار ہو۔اسی طرح یہ بھی کہتا ہوں یا درکھنا چاہئے کہ تبلیغ بھی بغیر خاص جوش اور جنون کے نہیں ہو سکتی۔تمہارے اندر یہ روح ہونی چاہئے کہ ہمیں جو چیز ملی ہے ہمارا فرض ہے کہ اسے دنیا تک پہنچائیں کیونکہ اگر یہ چیز اسے نہ ملی تو وہ ضرور تباہ ہو جائے گی۔بعض نادان کہہ دیا کرتے ہیں تم دنیا کو کافر کہتے ہو تمہاری بات کیوں سنیں۔انہیں بتانا چاہئے کہ دنیا کے اندر کون سی سچائی ہے جسے ترک کر دینے والا نقصان نہیں اٹھاتا۔اگر کو نین بخار کے لئے مفید ہے تو اس کو چھوڑنے والا ضرور بخار میں مبتلا ہو جائے گا۔اسی طرح جب ایک مامور دنیا میں آیا تو یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ اسے نہ ماننے والا نقصان نہ اٹھائے۔کفر کوئی گالی نہیں بلکہ یہ اس نقصان کا نام ہے اور جھوٹا ہے وہ شخص جو کہتا ہے کفر گالی ہے۔اگر کسی صداقت کے انکار سے کوئی بھی نقصان نہ ہو تو وہ سچائی سچائی ہی نہیں بلکہ جھوٹ ہے۔کفر کے معنے نقصان کے ہیں۔ہر سچائی اپنے مقابل میں ایک ضرور رکھتی ہے اور اسی ضرر کا نام کفر ہے۔جو شخص ایک سوئی کا بھی انکار کرے گا وہ بھی نقصان اٹھائے گا اور کپڑے نہیں سی سکے گا۔پھر یہ کس طرح ہوسکتا ہے کہ ایک انسان خدا کے ایک مامور کا انکار کرے اور اسے کوئی ضرر یا نقصان نہ پہنچے۔بعض دفعہ ایک انسان جھوٹ بول دیتا ہے اس کے متعلق ہم یہ تو ضرور کہیں گے کہ اس نے جھوٹ بولا ہے لیکن یہ نہیں کہیں گے کہ یہ جھوٹا ہے۔مگر جب جھوٹ بولنا اس کی عادت ہو جائے گی تو پھر اسے جھوٹا ہی کہا جائے گا۔اسی طرح بعض اوقات نرم سے نرم دل آدمی بھی کسی سے لڑ پڑتا ہے مگر