زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 308
زریں ہدایات (برائے طلباء) 308 جلد سوم فلاں فلاں کھانے میں خرچ ہوا اور اب اس قدر کی اور ضرورت ہے۔آپ یہ سب سن کر حکم دیتے اچھا دو پیسہ کا اور نمک خریدنے کی منظوری دی جاتی ہے۔اتفاق ایسا ہوا کہ گورداسپور کی ایک عدالت سے کچھ مسلوں کی چوری ہو گئی۔گورنمنٹ نے اعلان کیا کہ سراغ لگانے والے کو انعام دیا جائے گا۔ان کے پڑوسی روز مسلوں کے جھگڑے ان کے گھر میں سنتے رہتے تھے ان میں سے کسی نے رپورٹ کر دی کہ مسلیں ان کے گھر میں ہیں۔پولیس نے تلاشی لی تو وہ نمک مرچ کی مسلیں نکلیں۔سو میرا یہ مطلب نہیں کہ قانون پڑھنے والے طلباء قانونی دفعات کا اپنی روزمرہ کی گفتگو اور دوست احباب کی مجالس میں استعمال شروع کر دیں اور اپنے اردگرد سے تمام دوستوں کو پریشان کر کے بھگا دیں۔بلکہ یہ ہے کہ قانون جو روح ان کے اندر پیدا کرنا چاہتا ہے وہ ان کے اندر پیدا ہو جائے۔اسی طرح طب جو روح پیدا کرنا چاہتی ہے وہ علم طب حاصل کرنے والے اپنے اندر پیدا کریں۔اس کے بعد میں ایک اور بات کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں۔اور وہ یہ ہے کہ ہمارے عزیزوں کو قومی کاموں میں بھی حصہ لینا چاہئے۔کیا یہ عجیب بات نہیں کہ گورنمنٹ حکم دیتی ہے طلباء کا نگر میں اور دیگر سیاسی تحریکات میں حصہ نہ لیں لیکن طالب علم کہتے ہیں نہیں ہم ضرور حصہ لیں گے۔لیکن ہم کہتے ہیں دینی کاموں میں ضرور حصہ لو اور طالب علم نہیں لیتے۔اس کی مثال تو ایسی ہے کہ کہتے ہیں ایک شخص کی بیوی ہمیشہ الٹ ہی کیا کرتی تھی۔اگر خاوند کہتا آج میں چاول کھاؤں گا تو وہ ضرور روٹی پکاتی۔خاوند نے بھی اس کی عادت کو سمجھ لیا۔جس دن اس کا دل چاول کھانے کو چاہتا وہ کہہ دیتا آج ضرور روٹی پکانا اور اس دن ضرور چاول پک جاتے جنہیں وہ مزے سے کھاتا بھی جاتا اور ساتھ ہی یہ بھی کہتا جاتا کہ میں نے تو روٹی کے لئے تمہیں کہا تھا پھر بھی تم نے چاول ہی پکائے۔ایک دفعہ وہ دونوں کسی دریا میں سے گزر رہے تھے وہاں مرد اپنا اصول بھول گیا اور بیوی سے کہہ دیا کہ مجھے مضبوط پکڑے رکھو۔بیوی نے اسے جھٹ چھوڑ دیا اور وہ دریا میں بہہ گئی۔اس شخص نے دریا کے اوپر کی طرف اس کی تلاش شروع کی۔کسی نے کہا میاں! بہنے والا نیچے جایا کرتا ہے اس لئے نیچے کی طرف تلاش کرو۔اس نے کہا نہیں میری بیوی