زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 304
زریں ہدایات (برائے طلباء) 304 جلد سوم نہیں کہ بیٹھے تو رہوزمین پر مگر سمجھو یہ کہ ہم آسمان پر پہنچ جائیں گے۔گویا ارادہ اور امنگ اتنی رکھو جتنی کے لئے تم قربانی کر سکتے ہو۔جس کے لئے قربانی نہیں کر سکتے اس سے اسلام روکتا ہے۔اسی طرح ایک امنگ ایسی بھی ہوتی ہے جس میں دوسرے کا نقصان ہوتا ہے۔یہی خیال ہوتا ہے کہ میں بڑا بن جاؤں اور فلاں ذلیل ہو جائے۔یہ حسد ہے اس سے بھی اسلام نے روکا ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ مسلمان کے سامنے اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ کا Ideal رکھا گیا ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ خدا تعالیٰ کے ہاں انعامات کی کمی نہیں۔اگر کوئی شخص یہ خیال کرتا ہے کہ زید گرے تو میں اس کی جگہ لوں تو اس کے یہ معنی ہیں کہ وہ خدا پر بدظنی کرتا ہے اور سمجھتا ہے خدا کے پاس جو کچھ تھا وہ تو اس نے فلاں شخص کو دے دیا۔اب اور کچھ نہیں جو مجھے دے۔اس سے اسلام روکتا ہے۔پس اسلام دو قسم کی امنگوں سے روکتا ہے۔ایک تو وہ جن کے خلاف انسان کی کوشش ہو اور دوسری وہ جو نیکی کی مخالف ہوں۔جو انسان امنگ تو دل میں رکھتا ہے مگر اس کے مطابق کوشش نہیں کرتا وہ اپنے نفس کو دھوکا دیتا ہے اور منافقت کرتا ہے۔جو شخص دوڑتا ہے اور یہ خیال کرتا ہے کہ میں گھوڑے سے زیادہ دوڑوں گا اس میں ضرور عام حالات سے زیادہ طاقت آجائے گی۔لیکن جو چار پائی پر لیٹا رہتا ہے اور چاہتا ہے کہ موٹر سے بھی تیز بھاگوں تو اس کا نتیجہ سوائے اس کے کچھ نہیں ہوگا کہ اس کے اندر منافقت، بزدلی اور سستی پیدا ہو جائے گی۔جن امنگوں کے مطابق انسان کی کوشش ہو وہ جائز بلکہ ضروری ہیں۔لیکن اگر کوئی ایسے ارادے کرتا ہے جن کے مطابق اس کا عمل نہیں تو ان سے اسلام روکتا ہے یا اس سے روکتا ہے جس میں دوسرے کا نقصان چاہا جائے۔کیونکہ اس سے اپنی نیکی بر باد اور خدا تعالیٰ پر بدظنی ہوتی ہے۔پس یہ دونوں متضاد چیزیں نہیں۔اس لئے امنگیں رکھو مگر ان کے ساتھ کوشش بھی کرو۔جتنی امنگ بلند ہو اتنی ہی مفید ہے۔سوائے ان امنگوں کے جن کو خدا نے اپنے ہاتھ میں رکھا ہے۔مثلاً مردہ زندہ کرنا۔ایسی امنگ ادب کے خلاف ہونے کی وجہ سے ناجائز ہے۔یا پھر بعض ایسی باتیں ہیں جن کے متعلق خدا نے خود کہ دیا ہے کہ مانگنے سے نہیں ملا کر تیں۔میں خود جسے چاہوں دیتا ہوں۔مثلاً نبوت ہے۔اس کا مانگنا بھی ناجائز ہے۔