زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 302 of 362

زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 302

زریں ہدایات (برائے طلباء) 302 جلد سوم بلکہ اس سے روکتا ہے کہ ہماری قوت واہمہ غلط پرواز نہ کرے۔جس سے اسلام روکتا ہے وہ یہ ہے کہ ہم پرواز کی نقل کریں لیکن اصل میں پرواز نہ کریں۔اس کی مثال ایسی ہے جیسے آپ لوگوں نے بعض اوقات دیکھا ہوگا کہ پالتو مرغ اڑنے کے لئے پر جھاڑتے ہیں لیکن وہ زمین سے نہیں اُٹھ سکتے۔اسی طرح بعض انسان بھی پر مار کر ہی رہ جاتے ہیں۔وہ دوڑ کی نقل کرتے ہیں مگر اصل میں نہیں دوڑتے۔جیسے بعض اوقات کسی کو دھوکا دینے کے لئے یونہی پاؤں مارے جاتے ہیں۔سو اسلام پرواز سے نہیں روکتا بلکہ اس سے روکتا ہے کہ پرواز کی نقل کرو مگر پرواز نہ کرو۔اسلام نقالی کو بہت ناپسند کرتا ہے اور شاید یہی وجہ ہے کہ مسلمان ڈراما میں کامیاب نہیں ہوئے۔انہوں نے ہر فن میں کمال پیدا کیا۔ان میں عیوب بھی آئے۔مگر تھیڑ ان میں نہیں آیا۔شراب خانے بھی ان میں کھلے ہیں۔مسلمان عورتیں فاحشہ بھی ہو جاتی ہیں۔جو ا بازی بھی مسلمانوں میں ہے لیکن ان میں تھیڑ نہیں آیا۔اس کی وجہ یہ ہے کہ مسلمانوں کے دماغ میں روز اول سے یہ بات کچھ اس طرح گھس گئی ہے کہ ہمیں حقیقت (Reality) تک ہی رہنا چاہنے نقل کے پیچھے نہیں پڑنا چاہئے۔اور یہ بات باوجود خطر ناک تنزل کے ان سے علیحدہ نہیں ہوئی پس ضروری ہے کہ ہم اڑیں۔بلکہ اھدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ من بلند پروازی ہمارے لئے فرض کر دی گئی ہے۔اور یہ ضروری قرار دیا گیا ہے کہ ہم بہت بڑا Ideal اپنے پیش نظر رکھیں جس سے باہر کوئی چیز نہ ہو۔کیونکہ جب امید وسیع ہو تو کوشش بھی اُسی کے مطابق وسیع ہوتی ہے۔پاگل انسان کو دیکھ لو وہ خیال کرتا ہے میں بہت قوی ہوں۔اور دیکھا گیا ہے واقعی وہ معمول سے بہت زیادہ قوی ہو جاتا ہے اور ایسے واقعات ہوئے ہیں کہ کمزور سے کمزور پاگل بھی مضبوط سے مضبوط آدمی کو اٹھا کر پھینک دیتا ہے۔وہ یہ خیال کر لیتا ہے کہ دنیا میرے سامنے حقیر ہے میرا کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا اس لئے وہ اعصاب کی انتہائی قوت صرف کر دیتا ہے۔لیکن جو یہ خیال کرے کہ میں کمزور ہوں اس کے اعصاب بھی اتنی ہی ہمت دکھلاتے ہیں جتنا اس کا خیال ہوتا ہے۔اب تحقیقات ہوئی ہے کہ انسان کے اندر دیگر حیات کی طرح اندازہ کی بھی ایک حس ہے۔