زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 297 of 362

زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 297

زریں ہدایات (برائے طلباء) 297 جلد سوم سبب اندرونی جذبات کی جنگ بتاتے ہیں۔جن کی تفصیلات سے ہم واقف نہیں۔لیکن ان سے متاثر ہوئے بغیر بھی نہیں رہ سکتے۔جس طرح ایک بلند پہاڑ پر جانے والا شخص لمبی سانس کھینچتا ہے اور اس طرح معلوم ہوتا ہے کہ گویا آہیں بھر رہا ہے اور اس کے بغیر وہ رہ نہیں سکتا یہی حال اندرونی جذبات کی جنگوں کے اثر کے متعلق ہوتا ہے۔بہت بلند پہاڑ پر اگر کسی ایسے انسان کا رہنا فرض کر لیا جائے جس کے اردگرد مصنوعی طور پر ہوا کا پریشر بڑھا دیا جائے اور ہوا کے بوجہ کثیف ہونے کے اسے لمبی سانس کھینچنے کی حاجت نہ رہے تو وہ لمبی سانس کھینچنے والے کے متعلق یہی خیال کرے گا کہ اسے کوئی سخت صدمہ پہنچا ہے اس لئے آہیں لے رہا ہے۔حالانکہ اسے کوئی صدمہ نہیں پہنچا ہوگا بلکہ اُسے اُس وقت جسمانی لحاظ سے فرحت حاصل ہو رہی ہوگی۔اس کا سبب لطیف ہوا ہوگی۔میدان میں چونکہ اسے کثیف ہوا میں سانس لینے کی عادت تھی اور لطیف | ہوا کی وہ مقدار جتنی کہ اس کے سینے کو سانس لینے کے لئے کھینچنے کی ضرورت تھی ہوا کے بوجہ لطیف ہو جانے کے اس کی تسلی نہیں کر سکتی اس لئے اسے لمبا سانس لینا پڑتا ہے تا کافی ہوا اندر جاسکے۔یا بعض دفعہ ایسے ممالک میں جانا پڑتا ہے جہاں رطوبت زیادہ ہوتی ہے۔وہاں ہوا کے بوجہ رطوبت بوجھل ہو جانے کے باعث انسان اس طرح محسوس کرتا ہے جیسے کوئی چیز اسے دبائے چلی جارہی ہے۔وہ سخت گھبراہٹ محسوس کرتا ہے۔حالانکہ گرمی زیادہ نہیں ہوتی۔جیسے جاپان کا علاقہ ہے۔وہاں یہی حالت ہوتی ہے۔جاپان میں تو شاید بہت کم لوگوں کو جانے کا موقع مل سکے یہاں ہندوستان میں بمبئی ، کراچی یا کلکتہ میں ہی جا کر دیکھ لیا جائے گرمی تو کم محسوس ہوگی ، پارہ بھی کم دکھائی دے گا لیکن طبیعت میں ایسی گھبراہٹ ہوگی کہ گرم سے گرم جگہ بھی ایسی نہیں ہو سکتی۔جس کی وجہ صرف یہ ہوتی ہے کہ ہوا میں رطوبت مل جانے کے باعث کثافت پیدا ہو جاتی ہے جو اُ سے بوجھل کر دیتی ہے۔تو بہت سی چیزیں ہمارے قلب میں ایسی پیدا ہوتی ہیں کہ نہ تو نظر آتی ہیں اور نہ اُن کے سبب معلوم ہو سکتے ہیں۔صرف نتائج محسوس ہوتے ہیں۔اسی طرح بعض اوقات انسان ایک افسردگی محسوس کرتا ہے لیکن اس کا سبب اُسے معلوم