زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 295
زریں ہدایات (برائے طلباء) 295 جلد سوم وسیع ہمت اور بلند ارادوں کے ساتھ کوشش کرو 17 نومبر 1929ء بعد نماز ظہر بہت اور قادیان میں احمد یہ انٹر کا ٹویٹ لاہور کے ممبران اور احباب جماعت سے حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے خطاب کیا۔تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔گو آج میری طبیعت صبح سے علیل ہے اور حرارت بھی بڑھی ہوئی ہے لیکن چونکہ میں وعدہ کر چکا تھا نیز اس لئے بھی کہ میں چاہتا تھا بقول اس پٹھان کے جس نے کہا تھا ” میرے بچہ کا پہلا وار ہے خالی نہ جائے اس لئے تقریر کرنے کے لئے آ گیا ہوں تا کہ جو امیدیں لے کر کا جیٹس یہاں آئے ہیں ان کے متعلق ان کا پہلا ہی ٹرپ ضائع نہ جائے۔پس میں نے یہی مناسب سمجھا کہ اس وقت حسب وعدہ اپنے کالجیٹ عزیزوں کے سامنے بعض باتیں بیان کروں۔سب سے پہلی چیز جو میرے نزدیک ایک طالب علم کے سامنے آتی ہے اور جو ایسی ہے کہ میں سمجھتا ہوں ہر تندرست اور صحیح دماغ کے سامنے ضرور آنی چاہئے وہ یہ ہے کہ ایک طرف تو اس کے سامنے امیدوں اور امنگوں کا وسیع میدان ہوتا ہے، اسے اخلاق فاضلہ سکھانے یا دیگر علوم میں ترقی کرنے کے لئے ایسی ایسی کتابیں پڑھائی جاتی ہیں جن میں بڑے بڑے لوگوں کے احوال درج ہوتے ہیں، کالج کے کورسوں میں یا پرائیویٹ سٹڈی کے ذریعہ ایسے لوگوں کے احوال اور اعمال کا مطالعہ کر کے طالب علم کے نزدیک دنیا کی کوئی چیز انہونی نہیں رہتی اور ہر بلندی اور ہر کمال اسے قریب الحصول معلوم ہوتا ہے۔وہ خیال کرتا ہے جس طرح جنت کی یہ کیفیت بیان کی گئی ہے کہ وہاں جس چیز کی خواہش ہوگی وہ فورا مل جائے گی اسی طرح دنیا کی سب ترقیاں اور کامیابیاں میرے ارادہ اور خواہش کی پابند ہیں۔جونہی میں نے ادھر توجہ کی سب کی سب مکمل