زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 287 of 362

زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 287

زریں ہدایات (برائے طلباء) 287 جلد سوم لڑکوں اور لڑکیوں میں تقسیم انعامات کا جلسہ 28 جنوری 1929ء صبح دس بجے تعلیم الاسلام ہائی سکول قادیان میں جلسہ تقسیم انعامات | منعقد ہوا۔جس میں انعامات کے حقدار قرار پانے والے لڑکوں اور لڑکیوں کو حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے انعامات سے نوازا۔اس موقع پر تشہد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے حسب ذیل خطاب فرمایا:۔جلسہ تقسیم انعامات میرے نزدیک ایک ایسا فنکشن ہے جو سکول کی زندگی کو زیادہ دلچسپ بنانے میں بہت مفید ہو سکتا ہے۔اور ہم صرف ایک ضرورت کو آج پورا نہیں کر رہے بلکہ اس ضرورت کو اس کے وقت سے بہت پیچھے پورا کر رہے ہیں۔ناظر صاحب تعلیم و تربیت نے اپنی رپورٹ میں بیان کیا ہے کہ بچوں کا تعلیم حاصل کرنے سے یہ مقصد نہیں ہونا چاہئے کہ انعام حاصل کریں بلکہ مقصد اس سے بلند و بالا اور اعلیٰ وارفع ہونا چاہئے۔اس میں شبہ نہیں کہ تعلیم کا مقصد یہ نہیں ہونا چاہئے کہ عارضی انعام حاصل کئے جائیں بلکہ تعلیم خود اپنا انعام ہوا کرتی ہے۔ہر چیز کی قدر انسان اس کی لذت چکھنے کے بعد ہی معلوم کر سکتا ہے۔اس لئے میں سمجھتا ہوں جس شخص کو کوئی حقیقی علم آتا ہوا گر کوئی اس کے سامنے یہ بات پیش کرے کہ لاکھ دو لاکھ یا دس بیس لاکھ روپے لے لو اور پھر جاہل بن جاؤ تو وہ اسے کبھی قبول نہیں کرے گا۔ممکن ہے کہ کوئی خراب دماغ کا شخص اسے تسلیم کر لے لیکن ایسی مثال شاذ ہی ہو سکتی ہے۔جس شخص کی دونوں آنکھیں صحیح و سالم ہوں عام طور پر وہ ان کی قدر محسوس نہیں کر سکتا۔سوائے ان لوگوں کے جنہیں معرفت حاصل ہو اور جو خدا تعالیٰ کی ہر ایک نعمت کی قدر جانتے ہوں۔لیکن جس وقت آنکھ میں کوئی بیماری ہو جائے تو پھر اس کی قدر محسوس ہوتی ہے۔یا اگر