زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 286 of 362

زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 286

زریں ہدایات (برائے طلباء) 286 جلد سوم فلاں ناجائز یہ فضول بات ہے۔مثلاً ایک آدمی گند میں گر جائے جو کئی گز میں پھیلا ہو اور اسے کہا جائے کہ گند میں چلنا منع ہے تو وہ کس طرح اس گند سے نکل سکے گا۔بانی سلسلہ احمدیہ نے یہ رکھا ہے کہ اگر کوئی اس لئے سود لے کہ سود کی بلا سے بچ جائے تو وہ لے سکتا ہے۔مثلاً ایک جگہ وہ ہمیں فیصدی سودا دا کرتا ہے اگر اسے پانچ فیصدی سود پر بنگ سے رو پیدل سکتا ہے تو وہ لے لے۔اس طرح امید ہو سکتی ہے کہ وہ سود کی بلا سے بچ سکے۔نوجوان: ایک جگہ پچیس فیصدی سود دینا پڑتا ہے۔اگر ایک مسلمان ایسے شخص سے کہے کہ میں پانچ فیصدی سود پر قرض دیتا ہوں تو کیا وہ پانچ فیصدی سود لینے والا جائز کام کرتا ہے؟ کیونکہ وہ زیادہ شرح کے سود سے بچاتا ہے۔حضرت خلیفتہ المسح : دوسری جگہ زیادہ سود ادا کرنے والا اگر کم شرح سے سود لینے والے سے روپیہ لے کر سود ادا کرتا ہے تو یہ اس کے لئے جائز ہے۔مگر جو اس طرح سود لیتا ہے وہ ناجائز کرتا ہے اور گناہ گار ہے کیونکہ وہ اپنے فائدے کے لئے سود لیتا ہے۔کسی بڑی مضرت سے بچنا اس کی غرض نہیں۔“ 1: النور : 32 الفضل 25 جنوری 1929 ء) 2 تاریخ ابن اثیر جلد 3 صفحہ 254 مطبوعہ بیروت 1965ء 3 ابن ماجه أبواب النكاح باب النظر الى المرأة صفحه 267 حديث 1864 مطبوعہ ریاض 1999ء الطبعة الاولى