زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 282 of 362

زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 282

زریں ہدایات (برائے طلباء) 282 جلد سوم کر رہی ہیں۔حضرت خلیفہ المسح: ہم لڑکیوں کی تعلیم کے لئے جس قدر کوش کر سکتے ہیں کر رہے ہیں۔اس سال قادیان سے 12 لڑکیاں مولوی کے امتحان میں شامل ہوں گی۔یہ اتنی بڑی تعداد ہے کہ باقی سارے مسلمانوں میں سے جن کی تعداد ہماری جماعت سے بہت زیادہ ہے اتنی لڑکیاں چھوڑ اتنے لڑ کے بھی شاید ہی اس امتحان میں شامل ہوں۔قادیان میں ہماری جماعت کی قریباً سو فیصدی لڑکیاں پڑھی لکھی ہیں۔اور ہم کوشش کر رہے ہیں کہ جلد ان کی اعلی تعلیم کا انتظام مکمل ہو جائے۔ایک نوجوان مسلمانوںکو تعلیم میں تر قی کرنے کے لیے کیا کرنا چاہئے؟ حضرت خلیفہ اسیح: میرے نزدیک سب سے زیادہ اس بات کی ضرورت ہے کہ مسلمان طالب علموں کو ان کے مذاق اور ان کے رجحان طبیعت کے مطابق تعلیم دلائی جائے۔ہندوؤں میں چونکہ تعلیم زیادہ ہے اور وہ بہت عرصہ سے اس کے لئے کوشش کر رہے ہیں اس لئے ہند و طلباء کے والدین تعلیم یافتہ ہوتے ہیں۔وہ اپنے بچوں کے متعلق اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ان کو کس قسم کی تعلیم دلانی چاہئے۔مگر مسلمان طلباء کے والدین چونکہ عموماً جاہل ہوتے ہیں اس لئے وہ اپنے بچوں کے متعلق کوئی فیصلہ نہیں کر سکتے۔ایک زمیندار باپ کے ذہن میں سب سے بڑی بات یہ ہوتی ہے کہ اس کے لڑکے کو کوئی سرکاری ملازمت مل جائے۔مگر سرکاری ملازمت ساری دنیا کو نہیں مل سکتی۔اس لئے پڑھنے اور تعلیم حاصل کر لینے کے بعد بھی بہت سے نوجوان کسی کام کے ثابت نہیں ہوتے۔بیسیوں نہایت مفید اور فائدہ بخش پیشے مسلمانوں سے اس لئے چھوٹ گئے ہیں کہ مسلمانوں نے وہ تعلیم حاصل نہ کی جو ان پیشوں کے لئے ضروری تھی اور کئی نوجوان اس لئے کامیابی حاصل نہ کر سکے کہ انہیں ان کے مذاق کے مطابق تعلیم حاصل کرنے کا موقع نہ ملا۔اس کے متعلق کئی دفعہ کئی مسلمان پر وفیسروں سے گفتگو ہوئی تو انہوں نے کہا یہ بہت مفید اور ضروری بات ہے اور ضرور ایسا انتظام ہونا چاہئے کہ مسلمان طلباء کو ان کے مذاق کے مطابق تعلیم حاصل کرنے کا مشورہ دیا جائے۔اور جن پیشوں میں ترقی کرنے کی گنجائش ہو ان میں کام