زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 281
زریں ہدایات (برائے طلباء) 281 جلد سوم کالجیٹ طلباء کے سوالات اور ان کے جوابات 15 جنوری 1929ء کو کالجوں کے طلباء نے حضرت خلیفہ امسیح الثانی سے لاہور میں مختلف سوالات کئے جن کے حضور نے جوابات عنایت فرمائے جو کہ حسب ذیل ہیں:۔حضرت خلیفتہ اسیح: میرے نزدیک اس میں تو کوئی حرج نہیں کہ اگر ضرورت ہو تو درمیان میں پردہ ڈال کر ایک طرف لڑکے بیٹھے ہوں اور دوسری طرف لڑکیاں اور تعلیم حاصل کریں۔لیکن خرابیاں کمرہ تعلیم میں نہیں پیدا ہوا کرتیں بلکہ کمرہ سے باہر پیدا ہوتی ہیں۔لڑکے لڑکیوں کا اکٹھے آنا جانا ، ملنا جلنا اس سے نقائص پیدا ہو سکتے ہیں۔خود ہمارے ہاں یہ سوال پیدا ہوا تھا کہ جب تک لڑکیوں کے لئے علیحدہ تعلیم کا انتظام مکمل نہیں ہوتا ہائی سکول کی اعلیٰ کلاسوں کے ساتھ لڑکیاں بھی تعلیم حاصل کریں اور علیحدہ پردہ میں تعلیم پاتی رہیں۔مگر اسی نقص کی وجہ سے کہ ان کا ملنا جلنا مناسب نہیں اس تجویز کو منظور نہ کیا گیا۔بیان کیا گیا کہ کالجوں میں مسلمان طلباء تعلیم میں ہندوؤں سے بہت پیچھے ہوتے ہیں اور ہند و طلباء ہی زیادہ فوائد بھی حاصل کرتے ہیں۔حضرت خلیفہ امی: مسلمان خود تعلیم میں پیچھے رہے ہیں۔انہوں نے پہلے پہل تعلیم کی طرف توجہ ہی نہیں کی حالانکہ جب مسلمانوں کی سلطنت گئی ہے اُس وقت مسلمانوں میں تعلیم یافتہ لوگوں کی تعداد دوسروں سے زیادہ تھی۔اگر وہ تعلیم جاری رکھتے تو آج ان کی یہ حالت نہ ہوتی۔ایک نوجوان مسلمان انگریزی تعلیم کی اسی طرح مخالفت کرتے رہے جس طرح اب لڑکیوں کی تعلیم کی کرتے ہیں۔لیکن آج سے چالیس پچاس سال کے بعد انہیں اس غلطی کا بھی احساس ہوگا اور اُس وقت کچھ نہ بن سکے گا۔کیونکہ دوسری قوموں کی لڑکیاں تعلیم میں بہت ترقی