زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 275 of 362

زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 275

زریں ہدایات (برائے طلباء) 275 جلد سوم پر عمل کرنے کی توفیق خدا تعالیٰ نے دی۔خدا تعالیٰ کے مامور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشاد اور ہدایت کے ماتحت مدرسہ احمدیہ قائم کیا گیا تا کہ اس میں ایسے لوگ تیار ہوں جو وَلَتَكُنْ مِنْكُمْ أُمَّةٌ يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ الخ کے منشاء کو پورا کرنے والے لوگ ہوں۔بے شک اس مدرسہ سے نکلنے والے بعض نوکریاں بھی کرتے ہیں مگر اس کی وجہ یہ ہے کہ ہر ایک شخص ایک ہی کام کا اہل نہیں ہوتا۔انگریزوں میں بہت سے لوگ قانون پڑھتے ہیں مگر لاء کالج سے نکل کر سارے کے سارے بیرسٹری کا کام نہیں کرتے بلکہ کئی ایک اور کاروبار کرتے ہیں۔تو اس مدرسہ سے پڑھ کر نکلنے والے کئی ایسے ہوتے ہیں جو ملازمتیں کرتے ہیں مگر یہ اس لئے نہیں بنایا گیا کہ اس سے تعلیم حاصل کرنے والے نوکریاں کریں۔بلکہ اصل مقصد یہی ہے کہ مبلغ بنیں۔اب یہ دوسری کڑی ہے کہ ہم اس مدرسہ کو کالج کی صورت میں دیکھ رہے ہیں۔تبلیغ کے لحاظ سے یہ کالج ایسا ہونا چاہئے کہ اس میں نہ صرف دینی علوم پڑھائے جائیں بلکہ دوسری زبانیں بھی پڑھانی ضروری ہیں۔ہمارے جامعہ میں بعض کو انگریزی ، بعض کو جرمنی ، بعض کو سنسکرت ، بعض کو فارسی ، بعض کو روسی ، بعض کو سپینش وغیرہ زبانوں کی اعلیٰ تعلیم دینی چاہئے۔کیونکہ جن ملکوں میں مبلغوں کو بھیجا جائے ان کی زبان جاننا ضروری ہے۔بظاہر یہ باتیں خواب و خیال نظر آتی ہیں مگر ہم اس قسم کی خوابوں کا پورا ہونا اتنی بار دیکھ چکے ہیں کہ دوسرے لوگوں کو ظاہری باتوں کے پورے ہونے پر جس قدر اعتماد ہوتا ہے اس سے بڑھ کر ہمیں ان خوابوں کے پورے ہونے پر یقین ہے۔ہم نے دنیا کی صاف اور واضح ہاتوں کو اکثر جھوٹا ثابت ہوتا دیکھا ہے مگر ان خوابوں کو ہمیشہ پورا ہوتا دیکھتے ہیں۔انہی خوابوں میں سے ایک خواب یہ بھی تھا کہ اس میدان میں جہاں آج یہ جلسہ ہو رہا ہے دن کے وقت کوئی اکیلا نہ آ سکتا تھا اور کہا جاتا تھا یہاں جن رہتے ہیں۔یہ جگہ جہاں یہ کوٹھی ہے، جہاں یہ سرسبز باغ ہے، جہاں سینکڑوں آدمی چلتے پھرتے ہیں، یہاں سے کوئی شخص گزرنے کی جرات نہ کرتا تھا۔کیونکہ سمجھا جاتا تھا یہاں جن رہتے ہیں۔مگر اس جگہ کے