زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 271
زریں ہدایات (برائے طلباء) 271 جلد سوم چیز بنا دے تا کہ جس طرح ظاہری طور پر اس دن نے عید سے حصہ پایا ہے اسی طرح باطن | میں بھی عید کی خصوصیات حاصل کر لے۔ہمارے جو مبلغ باہر جارہے ہیں ان کے متعلق تو میں پہلے کچھ نصائح بیان کر چکا ہوں اور سمجھتا ہوں مزید کچھ کہنے کی ضرورت نہیں ہے۔میں نے خود بھی ان کو نصائح کرنے میں فائدہ اٹھایا ہے۔اور وہ یہ کہ جب میں تقریر کرنے کیلئے کھڑا ہوا تو بولنے کی طاقت نہ تھی۔حرارت تھی، متلی ہو رہی تھی اور سر درد کی شکایت تھی۔مگر تقریر کرتے ہوئے خدا تعالیٰ نے فضل کیا اور اب سوائے سردرد کے باقی آرام ہے۔میں امید کرتا ہوں کہ جس طرح میں نے نصائح کرنے میں فائدہ اٹھایا ہے اسی طرح مبلغین ان کے سننے سے فائدہ اٹھائیں گے۔لیکن اس دوسری تقریب کے متعلق جو مدرسہ احمدیہ نے ترقی کر کے جامعہ قائم ہونے کی کی ہے کچھ بیان کرنا چاہتا ہوں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ خدا تعالیٰ کے کام وہ آپ ہی کرتا ہے اور ایسی راہوں سے وہ اپنا کام کرتا ہے کہ انسان کے ذہن، فکر اور واہمہ میں بھی وہ نہیں آتیں۔وہ وہاں سے سامان جمع کرتا ہے جہاں سے انسان کو امید ہی نہیں ہوتی۔اور وہاں سے نتائج پیدا کرتا ہے جس طرف انسان کی نظریں نہیں اٹھ سکتیں۔مگر اس کے ساتھ ہی یہ بھی یا درکھنا چاہئے کہ تمام کاموں کے لئے اس نے کچھ قواعد ر کھے ہوئے ہیں اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ چیز کے کمال کے لئے ایک نظام کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔بہت لوگوں نے خدا تعالیٰ کی صفات پر غور کر کے صفات کے مفرد پہلو پر غور کیا ہے۔لیکن ان کے اجتماعی پہلو پر انہوں نے غور نہیں کیا۔وہ کہتے ہیں خدا تعالیٰ رب رحمن رحيم ، لمُلِكِ يَوْمِ الدِّينِ 1 ہے۔مگر یہ غور نہیں کرتے کہ یہ تمام صفات ایک نظام کے اندر ہیں۔اور ہر ایک صفت کے علیحدہ علیحدہ دائرے اور حلقے ہیں۔اور ایک صفت دوسری صفت کے دائرہ کو قطع نہیں کرتی۔جب یہ معلوم ہو گیا کہ ہر ایک صفت اپنے دائرہ میں چلتی ہے تو لازماً یہ بھی ماننا پڑتا ہے کہ کمال کی صفات میں سے ایک نظام کی صفت بھی ہے۔یعنی نظام کا کامل ہونا بھی اس کی