زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 264 of 362

زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 264

زریں ہدایات (برائے طلباء) 264 جلد سوم کو صحیح طور پر سمجھنا مشکل ہو جائے گا۔آج کے اس جلسہ کی غرض یہ ہے کہ احمد یہ سکول کے طلباء ان بھائیوں کو جو سکول سے نکل کر امتحان کے لئے جانے والے ہیں اور اگر پاس ہو گئے تو ان کی تعلیم مدرسہ سے ختم ہو جائے گی الوداع کہیں۔مگر تعلیم سے فارغ ہونے والوں کو سمجھ لینا چاہئے کہ وہ ایک مدرسہ سے نکل کر دوسرے میں جا رہے ہیں۔اب تک مدرسہ میں وہ اس طرح تھے جس طرح رحم مادر میں بچہ ہوتا ہے۔جب تک بچہ ماں کے پیٹ میں ہوتا ہے یا ماں کی گود میں ہوتا ہے اسے اپنی کوئی فکر نہیں ہوتی۔ساری فکر ماں کو ہوتی ہے۔اسی طرح ایک طالب علم کی زندگی علمی لحاظ سے ایسی ہوتی ہے جیسے رحم مادر میں یا ماں کی گود میں بچہ۔ہاں مدرسہ سے نکل کر اس کی زندگی شروع ہوتی ہے اور اس کا اپنا ارادہ کام کرتا ہے۔یہی زندگی اس کی زندگی کہلانے کی مستحق ہوتی ہے۔مدرسہ میں اس کی زندگی نہیں بلکہ استادوں کی زندگی ہوتی ہے۔جب لڑکوں کی اپنی زندگی شروع ہوتی ہے اُسی وقت معلوم ہو سکتا ہے اسلام کے لئے کتنا درد، کتنی جلن ، کتنا سوزان کے دل میں پیدا ہوا ہے۔اگر یہاں سے جانے کے بعد دین کی محبت ان کے دلوں میں پائی گئی ، دین کے لئے وہ ہر چیز قربان کرنے کے لئے تیار ہوئے ، ان کے دلوں میں وہی سوز اور گداز پایا گیا جو یہاں تھا تو ہم سمجھیں گے کہ قادیان کی رہائش سے انہوں نے فائدہ اٹھایا۔لیکن اگر انہوں نے بھی اسی طرح کیا جس طرح بعض ایسے لڑکوں نے کیا جنہوں نے دس دس بارہ بارہ سال یہاں پڑھا لیکن یہاں سے جانے کے بعد اپنی ملازمتوں اور دنیا کے دھندوں میں پھنس گئے اور قادیان کی طرف کبھی انہوں نے منہ بھی نہ کیا۔بعض تو اتنے گر گئے کہ اگر پیغامیوں کی ملازمت مل گئی تو پیغامیوں میں مل گئے اور اگر غیر احمدیوں کی ملازمت مل گئی تو ان میں شامل ہو گئے۔اگر ایسا ہی انہوں نے بھی کیا تو ان کی محنت بھی ضائع گئی اور ان کے استادوں کی بھی ضائع گئی۔موجودہ زمانہ اسلام کے لئے ایسا ہی نازک ہے جیسا یورپ کی سلطنتوں کے لئے جنگ یورپ کا زمانہ تھا۔اُس وقت ان سلطنتوں نے لڑکوں کو سکولوں اور کالجوں سے نکال لیا اور کہہ دیا تھا کہ یہ پڑھنے کے دن نہیں بلکہ جنگ کرنے کے دن ہیں۔اسی طرح آج اسلام کے