زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 261
زریں ہدایات (برائے طلباء) 261 جلد سوم حفاظت اور اشاعت اسلام کے لئے مسلمانوں کو بیدار کرو 28 اپریل 1927ء کو طلباء مدرسہ احمدیہ قادیان نے طلباء مولوی فاضل کلاس کو دعوت چائے دی۔اس موقع پر حضرت خلیفتہ اسیح الثانی نے تشہد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد درج ذیل خطاب فرمایا:۔" آج ( 28 اپریل ) جو ایڈریس پڑھا گیا ہے مجھے اس پر اس بات کی خوشی ہوئی کہ مجھے شکایت تھی عام طور پر ہمارے مدرسہ احمدیہ کے طلباء کی اردو ایسی صاف اور شستہ نہیں ہوتی جیسی کہ ہونی چاہئے لیکن آج کا جو ایڈریس پڑھا گیا اس کی زبان ایسی تھی کہ امید کی جاسکتی ہے آئندہ ترقی کر کے لکھنے والا ایسا کارآمد وجود ہو سکے جو زبان اور قلم سے مفید خدمت کر سکے۔لیکن اس ایڈریس میں ایک نقص بھی تھا جس کی اصلاح کی بہت ضرورت ہے۔اور وہ یہ کہ اس میں بہت کچھ تکلف سے کام لیا گیا ہے۔یہ بات خوب اچھی طرح سمجھ لینی چاہئے کہ دنیا میں تکلف سے کبھی دل فتح نہیں ہوا کرتے۔خدا تعالیٰ نے ہر چیز کو فتح کرنے کے لئے الگ الگ طریق قرار دیئے ہیں۔اور تکلف کانوں کے فتح کرنے کے لئے ہے۔کان اس سے عمدگی کے ساتھ فتح ہو سکتے ہیں مگر سادگی سے دل فتح کئے جاتے ہیں۔ایک عمدہ شعر جس کے الفاظ کی بندش چست ہو، جس کے مطالب گرگری پیدا کرنے والے ہوں وہ کانوں پر ایسا اثر کرے گا کہ سننے والے سن کر مست ہو جائیں گے اور ان کے سر جھومنے لگیں گے۔ان کے چہروں سے بشاشت اور خوشی کے آثار ظاہر ہوں گے لیکن جونہی وہ اس مجلس مشاعرہ کو چھوڑیں گے ان کے دل ایسے ہی کورے