زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 258 of 362

زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 258

زریں ہدایات (برائے طلباء) 258 جلد سوم احمدی طلباء کو نصائح 7 مارچ 1927ء کو مغرب کے قریب تعلیم الاسلام ہائی سکول قادیان کے فورتھ ہائی کلاس کے طلباء نے اپنے ففتھ ہائی کلاس کے بھائیوں کو ان کے امتحان میں شامل ہونے کے لئے جانے کی تقریب پر دعوت چائے دی۔چونکہ دو تین دن سے حضرت خلیفتہ السیح الثانی کی طبیعت علیل تھی اس لئے حضور نے اس شفقت اور نوازش کے باعث جو حضور اپنی جماعت کے بچوں پر فرماتے اپنے نئے مکان کے صحن میں ہی اس دعوت کا انتظام کرنے کی خاص طور پر اجازت بخشی تا حضور باوجود علالت کے اپنی نصائح سے بچوں کو مستفیض ہونے کا موقع بخش سکیں۔اس موقع پر حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے کرسی پر بیٹھے بیٹھے تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حسب ذیل تقریر فرمائی:۔میں اس وقت تکلیف کی وجہ سے کھڑا ہو کر تقریر نہیں کر سکتا لیکن چونکہ ہمارے سکول کی دسویں جماعت کے طلباء خدا کے فضل سے سب کے سب یا ان میں سے بہت سے امتحان کے بعد قادیان سے رخصت ہو جائیں گے اور شاید ان میں سے بہتوں کو کالجوں میں تعلیم پانے کا موقع ملے گا اس لئے میں انہیں خصوصیت سے ان عہدوں کی طرف توجہ دلانا ضروری سمجھتا ہوں جو انہوں نے انصار اللہ کی جماعت میں داخل ہو کر کئے ہیں۔میں نے پہلے بھی افسوس کے ساتھ کئی بار یہ بات کہی ہے اور اب بھی کہتا ہوں کہ جو طلباء سکول سے نکل کر احمد یہ ہوٹل میں جاتے ہیں ان کا رویہ اچھا اور پسندیدہ نہیں رہتا۔میں نے متواتر طلباء کو توجہ دلائی ہے کہ باجماعت نماز پڑھا کریں اور شریعت کے وہ احکام جو ظاہر سے تعلق رکھتے ہیں ان کی کم از کم اتنی پابندی کریں کہ دوسروں کو یہ کہنے کا موقع نہ ملے کہ جب