زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 259 of 362

زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 259

زریں ہدایات (برائے طلباء) 259 جلد سوم مسلمان خودان پر عمل نہیں کرتے تو دوسروں کو کس طرح ان کی خوبی کا قائل کر سکتے ہیں۔مگر باوجود اس کے مجھے معلوم ہوا ہے کہ طلباء شریعت کے احکام پر عمل کرنے میں کمزوری دکھاتے ہیں۔پچھلے چار ماہ ہوٹل کے سپرنٹینڈنٹ اور طلباء سے میری خط و کتابت رہی ہے جس سے معلوم ہوا ہے کہ بہت سے طلباء نے اس لئے بعض شرعی احکام پر عمل کرنا چھوڑ دیا کہ کچھ طلباء ان پر عمل نہیں کرتے تھے۔یہ بات میرا دماغ سمجھنے کے لئے تیار نہیں کہ کوئی شخص شریعت کے احکام پر اس حد تک ہی عمل کرنے کے لئے تیار ہو سکتا ہے جس حد تک دوسرے عمل کریں۔حالانکہ اسلامی احکام پر اس لئے عمل نہیں کرنا چاہئے کہ دوسرے ان پر عمل کرتے ہیں بلکہ اس لئے کرنا چاہئے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ حکم ہے۔اگر دس ہزار انسان بھی نماز نہ پڑھیں تو ہم نماز پڑھنا اس لئے نہیں چھوڑ سکتے کہ اتنی بڑی تعداد نماز نہیں پڑھتی۔اگر اسی حکم پر عمل کرنا چاہئے جس پر دوسرے لوگ عمل کریں تو کوئی بھی عمل نہیں کیا جا سکتا۔کون ساعمل ایسا ہے جس پر سب کے سب مسلمان کہلانے والے عمل کر رہے ہیں۔اگر دوسروں کی دیکھا دیکھی ہی عمل کرنا ہے تو شریعت کا کچھ بھی باقی نہیں رہتا۔دنیا شراب پیتی ہے پھر کیا ہمیں بھی شراب پینا چاہئے ؟ دنیا کے اکثر حصہ کی عورتیں بے پردہ پھرتی ہیں پھر کیا ہماری عورتوں کو بھی پردہ نہیں کرنا چاہئے ؟ دنیا کے اکثر لوگ قرآن کریم کو جھوٹا سمجھتے ہیں کیا نعوذ باللہ ہمیں بھی ایسا ہی سمجھنا چاہئے ؟ اگر دوسروں کی دیکھا دیکھی عمل کرنا ہے تو کوئی نیک کام بھی ایسا نہیں جو کیا جا سکے۔یہ کہنا کہ چونکہ بعض لڑکے داڑھی منڈاتے ہیں اس لئے ہم نے بھی منڈادی یا بعض لڑکے نماز نہیں پڑھتے اس لئے ہم بھی نہیں پڑھتے حد درجہ کی بے ہودگی ہے۔پچھلے سالوں میں تو یہ شکایت سنی جاتی تھی کہ قادیان سے جو سٹوڈنٹ آتے ہیں وہ نمازیں باجماعت پڑھنے میں سستی کرتے ہیں۔لیکن اس دفعہ یہ سنا گیا ہے کہ قادیان سے آنے والے اکثر طلباء نے نمازیں پڑھنی جاری رکھیں۔لیکن پھر اس لئے چھوڑ دیں کہ بعض اور نہیں پڑھتے تھے۔اسی طرح بعض نے داڑھیاں نہ منڈا ئیں لیکن پھر اس لئے منڈوا ڈالیں کہ بعض اور منڈاتے تھے۔اگر چہ یہ پہلے سے کسی قدر ترقی ہے کیونکہ پہلے تو قادیان سے جانے والے طلباء کی یہ شکایت تھی کہ شرعی احکام کی تعمیل میں سنتی کرتے تھے مگر اب یہ کہا گیا