زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 256
زریں ہدایات (برائے طلباء) 256 جلد سوم مدرس جولڑکوں کو ایسی حرکت سے نہ روک سکیں دنیا کو کس طرح برائیوں سے روک سکیں گے۔اور کس طرح امید کی جاسکتی ہے کہ دنیا فتنہ وفساد سے چور ہو کر اور انشقاق اور افتراق سے تھکی ہوئی ان کی طرف ہاتھ بڑھائے گی کہ وہ اس کا شقاق دور کریں۔اگر وہ لڑکوں کی اصلاح نہیں کر سکتے۔سنو اور غور سے سنو تم آپس میں فٹ بال کھیلتے رہو، مدرسہ احمدیہ ہائی سکول کو شکست دیتا رہے، جیتنے والے نعرے بلند کرتے رہیں اس سے دنیا کو کچھ فائدہ نہ ہوگا۔اور دنیا اسی طرح ضلالت اور گمراہی میں پڑی رہے گی جس طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعثت سے قبل پڑی تھی۔تمہاری زندگی کا مقصد اور مدعا تو صرف یہ ہے کہ تم کوشش کرو کہ وہ غرض پوری ہو جس کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام آئے۔اور یہ غرض تمہارے اکٹھے اور مل کر کام کرنے کے بغیر کبھی پوری نہ ہوگی۔تم میں مقابلہ کی روح ہونی چاہئے تمہیں کامیابی حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔دوران مقابلہ میں چیئر ز دو۔لیکن جیت گئے تو پھر کام ختم ہو گیا۔آپس میں بھائی بھائی کی طرح مل جاؤ اور کوئی ایسی حرکت نہ کرو جس سے کسی کی دل شکنی اور دل آزاری ہو۔ٹورنامنٹ کی ایک غرض تعاون کی روح پیدا کرنا ہے۔اگر یہ پیدا نہیں ہوتی تو ٹورنامنٹ کا کوئی فائدہ نہیں بلکہ نقصان ہے۔اس لئے میں اساتذہ سے بھی کہتا ہوں کہ اپنی ذمہ داریاں سمجھو۔اور یہ سمجھو کہ کیا چیز ان کے سپرد کی گئی ہے۔ان کے سپر د جماعت کے بچے کئے گئے ہیں جنہوں نے اگلے زمانہ میں ہماری جگہ کام کرنا ہے۔اگر ان میں شقاق کی روح رہی اور محبت کی روح نہ پیدا ہوئی تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ کام جو حضرت مسیح علیہ الصلوۃ والسلام نے کیا وہ برباد ہو جائے گا۔ہمارے کام کوئی کھیل تماشا نہیں۔ہمارے ہر ایک چھوٹے سے چھوٹے کام کے آئندہ نتائج نکلیں گے۔اس لئے ہمارے ہر کام میں یہ بات مدنظر رہنی چاہئے کہ محبت و پیار، قربانی و ایثار کی روح پیدا ہو۔اگر اساتذہ بچوں میں یہ بات پیدا کر دیں گے تو اللہ تعالیٰ کی برکتوں کے وارث ہوں گے۔اور اگر اس میں کو تاہی کریں گے تو ان کی نیکی اور تقویٰ اس جہان میں بھی ان کے کام نہ آئے گا اور اگلے جہان میں بھی کچھ فائدہ نہ دے گا۔دیکھو ساری دنیا کو