زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 247
زریں ہدایات (برائے طلباء) 247 جلد سوم خیال کرتے رہو اور ان کو ترک نہ کرو تو یہ بات بھی بجائے خود خطرہ سے خالی نہیں۔پس اگر تم ان باتوں کی طرف دھیان نہ کرو گے تو اس صورت میں تم سب کچھ ضائع کرنے والے بنو گے نہ کہ بنانے والے۔سو میری پہلی نصیحت یہ ہے کہ تم اپنے خیالات کو ہمیشہ نگاہ میں رکھو۔اور اس کے ساتھ ہی یہ بھی خیال رکھو کہ خواہ تم نے کسی بڑے سے بڑے مرحلے تک بھی کیوں نہ کام سرانجام دے لیا ہو یہ مت سمجھو کہ تم نے اپنے فرض کو ادا کر دیا ہے۔کیونکہ جتنا تم زیادہ کام کرو گے اتنا ہی تمہارا فرض بھی بڑھتا چلا جائے گا۔اور جتنا تمہارا فرض بڑھتا چلا جائے گا اتنا ہی تمہارے آگے میدان وسیع ہوتا جائے گا۔پس کسی مرحلے پر پہنچ کر یہ خیال مت کرو کہ تم نے اپنے فرض کو ادا کر دیا۔تم نے ایسوسی ایشن بنائی ہے اور ایسوسی ایشن کو آپریشن (Co-operation) ہی ہوتی ہے۔اور اگر ایسوسی ایشن صحیح معنوں میں کو آپریشن نہ ہوتو یہ کوئی عمدہ چیز نہیں۔صرف اتنی بات پر خوش ہو جانا معیوب ہوگا کہ ہم نے ایسوسی ایشن بنائی ہے۔ہم اس میں جمع ہوتے ہیں۔لیکچر دیتے ہیں اور تبادلہ خیالات کرتے ہیں اور تبلیغ بھی کرتے ہیں۔کیونکہ جب تک تمہارے دلوں میں کو آپریشن کی لہر نہ اٹھے، جب تک تمہارے اندر بھائیوں کی مدد اور محبت کا مادہ پیدا نہ ہوتب تک یہ کچھ نہیں۔اور اس صورت میں اگر تم جمع ہوتے ہو کہ تم میں بھائیوں کی مدد کا کوئی خیال نہیں تو صرف تم اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہو نہ کہ کچھ اور۔کیونکہ ایسوسی ایشن کا یہ مقصد نہیں ہوا کرتا۔پھر بھائیوں کی مدد کے خیال کے ساتھ تمہیں اپنی مدد کا بھی خیال رکھنا چاہئے کیونکہ اپنی مدد آپ کرنا بھی ایک عمدہ بات ہے۔پس تمہیں اس رنگ میں ترقی کرنا چاہئے اور ایک دوسرے سے تعاون بھی۔کیونکہ جب تم تعاون کرو گے تو پھر تم ایسوسی ایشن کے حقیقی اور اصلی مقصد کو پورا کرنے والے ٹھہرو گے اور اپنے آپ کی مدد کرنے والے بنو گے۔پس میں دوسری نصیحت یہ کرتا ہوں کہ ایسوسی ایشن کے ذریعہ کو آپریشن حاصل کی جائے اور آپس میں تعاون اور اپنی مدد آپ کرنے کا مادہ پیدا ہونا چاہئے۔ہر ایک آدمی پہلے بچہ ہوتا ہے اور ہر ایک شخص جانتا ہے کہ بچپن میں کھیل کود کے لئے بھی