زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 235
زریں ہدایات (برائے طلباء) 235 جلد سوم بالکل درست اور صحیح طور پر استعمال کرتا ہے۔علوم وفنون سے مراد علوم عالیہ ہوتے ہیں۔زبان اپنی ذات میں کوئی چیز نہیں۔یہ صرف اظہار مافی الضمیر کا ذریعہ ہے۔اور علم دوہی ہیں۔العِلْمُ عِلْمَانِ عِلْمُ الْأَبْدَانِ وَعِلْمُ الاديان 2 یعنی علم دو قسم کا ہی ہوا کرتا ہے ایک جسمانی اور ایک روحانی۔جس سے انسان کی روح کو فائدہ پہنچے وہ علم روحانی ہے۔اور جس سے انسان کے جسم کو فائدہ پہنچے وہ علم جسمانی ہے۔مثلاً ڈاکٹری یا انجینئری وغیرہ علم ہیں ان سے جسمانی فائدہ پہنچتا ہے۔سائنس ، فلسفہ، ہندسہ، م النفس وغیرہ بھی ایک علم ہیں کہ ان سے دماغی اور تمدنی اور معاشرتی ترقی ہوتی ہے۔اسی طرح اقتصاد بھی ایک علم ہے جس سے نوع انسان کو فائدہ پہنچتا ہے۔افراد کو افراد کی حیثیت سے بھی فائدہ ہوتا ہے اور قوم کے رنگ سے بھی۔اس علم کے ذریعے افراد، قوم، خاندان اور ملک مالی لحاظ سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔پس کوئی نادان ہی ہوگا جو کہے کہ مصر علوم وفنون کا گہوارہ ہے۔کیا مصر میں لوگ ڈاکٹری سے فائدہ اٹھا رہے ہیں؟ انجینئری سے فائدہ اٹھا رہے ہیں ؟ علم النفس سے فائدہ اٹھا رہے ہیں؟ فلسفہ سے فائدہ اٹھا رہے ہیں؟ یا مصر میں علم الادیان کا چرچاہے؟ یا خدا کے کلام کی صحیح تشریح کی جاتی ہے؟ یا خدا تعالیٰ کے احکام کی پابندی میں لوگ سب ملکوں سے آگے بڑھے ہوئے ہیں؟ وہ کون سا علم ہے جس سے مصر علوم وفنون کا گہوارہ کہلا سکتا ہے؟ ہمارا ملک ہندوستان جو دوسرے ملکوں سے تعلیم میں بہت پیچھے ہے مگر مصر سے بہت بڑھ کر ہے وہ زیادہ اس بات کا حقدار ہے کہ علوم وفنون کا گہوارہ کہلائے۔کیونکہ مصر کے بالمقابل سینکڑوں گنا زیادہ ہر قسم کے علوم کا یہاں چرچا ہے۔پورٹ سعید میں ہم آنکھوں کے ہسپتال دیکھنے گئے۔ہم نے سنا کہ یہاں ایک ڈاکٹر ماہرفن مشہور ہیں۔میری آنکھوں میں چونکہ تکلیف تھی اس لئے ہم نے خیال کیا کہ انہیں ملنا چاہئے۔خیر ہم اسے ملنے گئے۔مختلف باتیں کرتے ہوئے آنکھوں کے ایک خاص قسم کے آپریشن کا ذکر درمیان میں آگیا۔لیکن پورٹ سعید کا مایہ ناز ڈاکٹر کہنے لگا کہ میں نے کیا نہیں لیکن کتابوں میں